١٢٨٦٥ - حدثنا محمد بن يزيد عن أيوب أبي (العلاء) (١) عن قتادة عن (الحسن) (٢) في رجلين قتلا قتيلًا جميعًا، قال: عليهما كفارتان.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ دو شخص اکھٹے مل کر کسی کو قتل کردیں تو دونوں پر دو کفارے ہیں۔
١٢٨٦٦ - حدثنا محمد بن يزيد عن أيوب (١) أبي العلاء عن أبي هاشم عن عمر ﵁ (٢) (قال) (٣): عليهما كفارة واحدة (٤).
١٢٨٦٧ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن مغيرة عن الشعبي قال (١): ألا ترى لو أن قومًا قتلوا رجلًا (اشتركوا) (٢) (في) (٣) قتله، (كان) (٤) على كل واحد (منهم) (٥) كفارة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ کیا تو نہیں دیکھتا کہ اگر ایک قوم مل کر کسی ایک شخص کو قتل کردیں تو ان میں سے ہر ایک پر کفارہ آتا ہے۔
١٢٨٦٨ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن الحكم عن الشعبي (قال) (١): لو أن قومًا اجتمعوا على (قتل) (٢) رجل كان على كل (واحد) (٣) منهم كفارة يعني خطأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے اسی طرح منقول ہے، حضرت حکم کی بھی یہی رائے ہے۔
١٢٨٧٠ - حدثنا ابن نمير عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم قال: إذا قتل القوم الرجل فعلى كل واحد منهم (كفارة) (١) التحرير.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب ایک قوم کسی شخص کو قتل کر دے (غلطی سے) تو ہر ایک کے ذمہ غلام آزاد کرنا ہے۔
١٢٨٧١ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن حماد بن سلمة عن برد (أبي العلاء) (١) عن مكحول في القوم يقتلون (الرجل) (٢) قال: على كل رجل منهم كفارة، وعليهم جميعا الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ اگر ایک قوم کسی شخص کو قتل کردیں تو ہر ایک پر کفارہ ہے اور ان سب پر دیت ہے۔