کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص حلف اٹھا لے کہ صلہ رحمی نہیں کروں گا اس کو کیا حکم دیں گے؟
حدیث نمبر: 12783
١٢٧٨٣ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم في رجل حلف (أن) (١) لا يصل رحمه، قال: يصل رحمه ويكفر (٢) يمينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم سے دریافت کیا گیا ایک شخص نے حلف اٹھایا کہ وہ صلہ رحمی نہیں کرے گا، آپ نے فرمایا وہ صلہ رحمی کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے، حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ وہ صلہ رحمی کرے لیکن قسم کا کفارہ نہیں ہے اگر میں اسے قسم کا کفارہ دینے کا حکم دیتا تو میں اسے اس کی بات پوری کرنے کا حکم دیتا۔
حدیث نمبر: 12784
١٢٧٨٤ - قال: (و) (١) قال الشعبي يصل رحمه ولا يكفر يمينه، ولو أمرته أن يكفر يمينه، أمرته أن يتم على قوله.
حدیث نمبر: 12785
١٢٧٨٥ - حدثنا معتمر بن سليمان عن كثير بن نباتة سمعه يحدث أن أخوين كانا شريكين وأن أحدهما أراد مفارقة أخيه، فقال: (كل) (١) مملوك له حر أو عتيق إن لم يفارق أخاه، وإن أمه أمرته أن (لا) (٢) يفارق (٣) أخاه، فسألت الحسن، أو ⦗٣٢٣⦘ سئل وهو يسمع (٤) ذلك، فقال: ليكفر (٥) يمينه و (ليصل) (٦) رحمه (و) (٧) (يشارك) (٨) أخاه، أو كما قال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کثیر بن نباتہ سے مروی ہے کہ دو بھائی آپس میں شریک تھے ان میں سے ایک نے اپنے بھائی سے جدا ہونے کا ارادہ کیا اور کہا کہ میں اگر اپنے بھائی سے جدا نہ ہوا تو میرا ہر مملوک آزاد ہے، جبکہ اس کی والدہ نے اس کو بھائی سے جدا نہ ہونے کا حکم دیا، میں نے حسن سے دریافت کیا یا وہ خود اس معاملہ کو سن رہے تھے تو ان سے سوال کیا گیا، آپ نے فرمایا وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور صلہ رحمی کرتا رہے اور اپنے بھائی کے ساتھ شریک رہے یا جس طرح انہوں نے فرمایا۔
حدیث نمبر: 12786
١٢٧٨٦ - قال أبو العلاء كثير: (فحدثت) (١) به الحكم بن أبان، فقال: هذا قول طاوس.
حدیث نمبر: 12787
١٢٧٨٧ - حدثنا محمد بن عبيد (١) عن الأعمش عن إبراهيم في رجل حلف (٢) لا يكلم أباه (و) (٣) أخاه شهرين، قال: (لا يلاطفه) (٤) يدخل عليه ولا يكلمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ اپنے باپ یا بھائی سے دو ماہ تک کلام نہ کرے گا، آپ نے فرمایا : وہ اس کے ساتھ مہربانی کرے اور اس کے پاس جاتا بھی رہے بس کلام نہ کرے۔