١٢٦٧٨ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا ابن علية عن عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه قال: كانت يمين عثمان بن أبي العاص لعمري (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیینہ بن عبد الرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن ابی العاص لعمری (میری عمر کی قسم) کہہ کر قسم اٹھاتے۔
١٢٦٧٩ - حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: (نبئت أن) (١) أبا السوار العدوي قال: إذا سمعتموني (أقول) (٢) (لاها اللَّه) (٣) إذًا، (أو) (٤) لعمري فذكروني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت ابو السوار العدوی نے ہمیں خبر دی کہ جب تم مجھ سے سنو کہ میں یوں کہہ ر ہا ہوں، نہیں اللہ کی قسم تب، یا میری عمر کی قسم تو تم مجھے یاد دلا دو ۔
١٢٦٨٠ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن قال: إذا قال الرجل: لعمري (لا) (١) أفعل كذا وكذا إن حنث فعليه الكفارة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قسم اٹھائے کہ میری عمر کی قسم میں یہ یہ نہیں کروں گا، پھر اگر وہ حانث ہوجائے تو اس پر کفارہ ہے۔
١٢٦٨١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: لعمري (لغو) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ لعمری کہہ کر قسم اٹھانا لغو ہے۔
١٢٦٨٢ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم أنه كره أن يقول: لعمري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم لعمری کہہ کر قسم اٹھانے کو ناپسند کرتے تھے۔
١٢٦٨٣ - [حدثنا محمد بن فضيل عن العلاء عن أبيه قال: قال كعب: إنكم تشركون، قالوا: وكيف يا أبا إسحاق؛ قال: يقول أحدكم: (لا لعمري) (١) لا وحياتك] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ بیشک تم لوگ شرک کرتے ہو، لوگوں نے عرض کیا اے ابو اسحاق ! وہ کیسے ؟ آپ نے فرمایا تم کوئی سے کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے یوں کہہ کر میری زندگی کی قسم، تیری زندگی کی قسم۔