کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ولد الزنی غلام ادا کرنا کافی ہو جائے گا کہ نہیں؟
حدیث نمبر: 12621
١٢٦٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم والشعبي أنهما قالا: لا يجزئ في شيء من الواجب ولد الزنى.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جہاں پر غلام آزاد کرنا واجب ہو وہاں ولد الزنی ادا کرنا جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12621
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12621، ترقيم محمد عوامة 12371)
حدیث نمبر: 12622
١٢٦٢٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عثمان بن الأسود قال: توفي رجل من أهلي فأوصى بنسمة، فوجدت نسمة قد تزوج أبوه أمه بغير إذن مولاه، فسألت عطاء فقال: أكره ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن الاسود فرماتے ہیں کہ میرے اھل میں سے ایک شخص فوت ہوا اور اس نے ایک غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تھی، میں نے ایک غلام پایا جس کے ماں باپ نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تھا، میں نے اس بارے میں حضرت عطاء سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا میں تو اس کو ناپسند کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12622
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12622، ترقيم محمد عوامة 12372)
حدیث نمبر: 12623
١٢٦٢٣ - حدثنا هشيم عن (فلان بن) (١) (عمرو) (٢) قال: سألت أبا جعفر عن عتق ولد الزنى في كفارة اليمين فقال: يجزئه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فلان بن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے کفارہ یمین میں ولد الزنی آزاد کرنے کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کافی ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12623
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12623، ترقيم محمد عوامة 12373)
حدیث نمبر: 12624
١٢٦٢٤ - حدثنا هشيم عن يونس أنه كان يقول: يجزئ في الواجب ولا يفضله الذي (لرشدة) (١) (إلا بتقوى) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ ولد الزنی غلام کافی ہوجائے گا اور صحیح النسب غلام آزاد کرنے والے کو کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12624
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12624، ترقيم محمد عوامة 12374)
حدیث نمبر: 12625
١٢٦٢٥ - حدثنا وكيع وابن مهدي عن سفيان عن ابن (أبي) (١) نجيح عن طاوس قال: (لا) (٢) يجزئ ولد الزنى في الرقبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ غلام آزاد کرنے میں ولد الزنی آزاد کرنا کافی ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12625
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12625، ترقيم محمد عوامة 12375)
حدیث نمبر: 12626
١٢٦٢٦ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا يجزئ (من) (١) الرقبة الواجبة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ رقبہ واجبہ میں ولد الزنی دینا کافی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12626
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12626، ترقيم محمد عوامة 12376)
حدیث نمبر: 12627
١٢٦٢٧ - حدثنا حفص عن محمد بن إسحاق وعبد اللَّه بن (سعيد) (١) عن سعيد ابن أبي سعيد أتت امرأة أبا هريرة فسألته عن ابن جارية لها من غير رشدة وعليها رقبة، أيجزئها؛ قال: نعم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابو سعید فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور دریافت کیا کہ میرے پاس ایک لونڈی کا بیٹا ہے جو صحیح النسب نہیں ہے اور میرے ذمہ غلام آزاد کرنا واجب ہے کیا وہ غلام آزاد کرنا کافی ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12627
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12627، ترقيم محمد عوامة 12377)