١٢٦١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يقول: (فيمن) (١) كانت عليه رقبة، فاشترى نسمة، قال: إذا (أنفذها) (٢) من عمل إلى عمل أجزاه، (و) (٣) لا يجزيه من لا يعمل، فأما الذي يعمل فالأعور ونحوه، وأما الذي لا يعمل (فالمقعد والأعمى) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جس کے ذمہ غلام آزاد کرنا ہو تو وہ ایک جان (غلام) خریدے، پھر جب اس کو نافذ کیا کسی عمل سے کسی عمل کی طرف، تو اس کی طرف سے کافی ہوجائے گا، اور کافی نہیں ہوگا جو اس نے عمل نہیں کیا، پس جو شخص عمل کرے تو کانا اور اس کی مثل ہے، اور جو عمل نہ کرے تو اندھا اور لنگڑا کے مثل ہے۔
١٢٦١٤ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن: أنه كان يكره الأعرج (والمخبل) (١) في الرقبة الواجبة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن لنگڑے غلام اور وہ غلام جس کے اعضاء میں خرابی ہو کو رقبہ واجبہ میں ناپسند فرماتے تھے۔
١٢٦١٥ - حدثنا محمد بن (مروان) (١) عن عمارة عن عكرمة، (سأله) (٢) رجل: أيجزئ في عتق الرقبة الواجبة الأعور؟ [فقال: رب أعور ثمَّ (ثم) (٣) دار] (٤)، فقال: (يجزئ الأعرج، قال) (٥): (الساعة) (٦) (تجيء) (٧) بالمقعد (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ رقبہ واجبہ میں کانا غلام کافی ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا : بہت سے کانے غلام کافی ہوجاتے ہیں، پھر وہ لوٹا اور عرض کیا کیا لنگڑا غلام کافی ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن وہ لنگڑے پن کے ساتھ آئے گا۔
١٢٦١٦ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم قال: يجزئ الأعور.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کانا غلام کافی ہوجائے گا۔
١٢٦١٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: المجنون لا يجزئ في الذي عليه الرقبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جس پر غلام آزاد کرنا ہے اس کی طرف سے مجنون غلام کافی نہ ہوگا۔
١٢٦١٨ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج قال: قلت لعطاء أيجوز في قتل النفس (٢) رقبة مؤمنة غير سوية وهو ينتفع بها، أعرج أو أشل؟ فأبى واستحب السوية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا، کیا قتل نفس میں مؤمن غلام کو آزاد کرنا جو کہ تندرست نہ ہو کافی ہوجائے گا اور وہ اس سے نفع حاصل کر رہا ہے، وہ غلام لنگڑا ہے یا اس کا عضو شل ہے ؟ آپ نے اس کا انکار کیا اور تندرست غلام کو پسند کیا۔
١٢٦١٩ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن جابر عن عامر قال: يجزئ الأعمى في الكفارة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ نابینا غلام کفارہ میں دینا جائز ہے۔
١٢٦٢٠ - حدثنا حفص عن عمرو عن الحسن قال: سألته عن الأعمى والمقعد فقال: لا يجزئ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے نابینے اور معذور غلام کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کافی نہیں ہے۔