کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: شوہر اور بھائی میں سے نماز جنازہ پڑھانے کا زیادہ حقدار کون ہے
حدیث نمبر: 12323
١٢٣٢٣ - حدثنا (معمّر) (١) بن سليمان الرقي عن حجاج عن داود بن الحصين عن عكرمة عن ابن عباس: الرجل أحق بغسل (امرأته) (٢) والصلاة عليها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ شوہر عورت کو غسل دینے اور اس کی نماز جنازہ پڑھانے کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 12324
١٢٣٢٤ - حدثنا إسماعيل بن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: الأب أحق بالصلاة على المرأة ثم (الزوج ثم الأخ) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ عورت کی نماز جنازہ پڑھانے کا سب سے زیادہ حق دار اس کا والد ہے، پھر اس کا شوہر پھر اس کا بھائی۔
حدیث نمبر: 12325
١٢٣٢٥ - حدثنا شريك عن عبد الكريم عن عطاء قال: الرجل أحق بامرأته حتى يواريها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ شوہر عورت کی نماز جنازہ کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 12326
١٢٣٢٦ - حدثنا حفص عن ليث عن يزيد (بن) (١) أبي سليمان عن مسروق قال: ماتت امرأة لعمر فقال: أنا كنت أولى بها (إذ) (٢) كانت حية، فأما الآن (فأنتم) (٣) أولى بها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کی اہلیہ کا انتقال ہوا تو آپ نے فرمایا : جب یہ زندہ تھی تو میں اس کا زیادہ حق دار تھا، اور اب (مرنے کے بعد) تم اس کے زیادہ حق دار ہو۔
حدیث نمبر: 12327
١٢٣٢٧ - حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا: أيهما أحق بالصلاة على الجنازة؟ فقال الحكم: الأخ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا عورت کی نماز جنازہ کا زیادہ حق دار کون ہے ؟ حضرت حکم فرماتے ہیں کہ امام زیادہ حق دار ہے، اگر امام اور بھائی جمع ہوجائیں تو ولی زیادہ حق دار ہے پھر خاوند کا زیادہ حق ہے۔
حدیث نمبر: 12328
١٢٣٢٨ - وقال حماد: قال إبراهيم: الإمام فإن تداروا فالولي ثم الزوج.
حدیث نمبر: 12329
١٢٣٢٩ - حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن الشعبي قال: إذا ماتت المرأة انقطعت عصمة ما بينها وبين زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب عورت کا انتقال ہوجائے تو اس کے اور اس کے شوہر کا ازدواجی رشتہ ختم ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 12330
١٢٣٣٠ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: الأب والابن والأخ (أحق) (١) بالصلاة على المرأة من الزوج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ عورت کے اولیاء شوہر سے زیادہ نماز جنازہ کے حق دار ہیں۔
حدیث نمبر: 12331
١٢٣٣١ - حدثنا ابن علية عن ابن (أبي) (١) عروبة عن قتادة أنه كان يقول: الأولياء أحق بالصلاة عليها من الزوج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں عورت کے اولیاء شوہر سے زیادہ نماز جنازہ کے حق دار ہیں۔
حدیث نمبر: 12332
١٢٣٣٢ - حدثنا ابن (أبي غنية) (١) عن أبيه عن (الحكم) (٢) قال: إذا ماتت المرأة فقد انقطع ما بينها وبين زوجها، وأولياؤها أحق بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جب عورت کا انتقال ہوجائے تو اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان جو رشتہ ازدواج ہے وہ ختم ہوجاتا ہے، اس عورت کے اولیاء اس کی نماز جنازہ کے زیادہ حق دار ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12333
١٢٣٣٣ - حدثنا وكيع عن محمد بن قيس [عن الشعبي قال: الزوج أحق من الأخ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ شوہر بھائی سے زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 12334
١٢٣٣٤ - حدثنا شبابة حدثنا شعبة عن أبي (١) كعب] (٢) عن عبد العزيز بن أبي بكرة قال: كانت امرأة من بني تميم لأبي بكرة فماتت فتنازعوا في الصلاة عليها؛ فصلى عليها أبو بكرة وقال (للولي) (٣): (لولا) (٤) أني (أحق) (٥) بالصلاة عليها (ما صليت عليها) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز بن ابی بکرہ فرماتے ہیں کہ بنی تمیم کی ایک خاتون حضرت ابو بکرہ کے عقد نکاح میں تھی، جب اس کا انتقال ہوا تو اس کی نماز جنازہ کے بارے میں جھگڑا ہوا، اس کی نماز جنازہ حضرت ابو بکرہ نے پڑھائی اور فرمایا اگر میں تم سے زیادہ حق دار نہ ہوتا تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھاتا۔