کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: مردوں اور عورتوں کے جنازے میں بعض فرماتے ہیں مردوں کو امام کے قریب اور عورتوں کو ان کے آگے رکھا جائے گا
١١٩٠٨ - حدثنا عبد الأعلى (بن عبد الأعلى) (١) عن يونس عن هلال المازني قال: رأيت أبا هريرة يصلي على (جنائز) (٢) (رجال) (٣) ونساء تسع أو سبع فقدم النساء مما يلي القبلة، وجعل الرجال يلون الإمام (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلال المازنی فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نو یا سات مردوں اور عورتوں کے جنازے میں دیکھا، انہوں نے عورتوں کو قبلہ کے قریب کیا اور مردوں کو امام کے قریب۔
١١٩٠٩ - حدثنا ابن نمير عن حجاج عن نافع (عن) (١) ابن عمر أنه كان إذا صلى على (جنائز) (٢) (رجال) (٣) ونساء جعل الرجال مما يليه والنساء خلف ذلك مما يلي القبلة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مردوں اور عورتوں کی نماز جنازہ پڑھاتے تو مردوں کو (امام) کے قریب رکھتے اور عورتوں کو ان کے بعد قبلہ کے قریب۔
١١٩١٠ - حدثنا ابن نمير عن حجاج عن عثمان بن عبد اللَّه بن (موهب) (١) أن زيد بن ثابت وأبا هريرة كانا يفعلان ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن عبد اللہ بن موھب فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسی طرح کرتے۔
١١٩١١ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم في جنائز رجال ونساء قال: تكون النساء أمام الرجال.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم مردوں اور عورتوں کے جنازے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ عورتوں کو مردوں کے آگے رکھا جائے گا۔
١١٩١٢ - حدثنا هشيم عن إسماعيل وزكريا عن الشعبي كما قال إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی بھی ابراہیم کے مثل فرماتے ہیں۔
١١٩١٣ - حدثنا هشيم عن داود قال: سمعت سعيد بن المسيب يقول ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے اسی طرح سنا۔
١١٩١٤ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) أبو الأحوص عن أبي إسحاق قال: كان الحارث إذا صلى على جنائز رجال ونساء جعل الرجال (يلونه) (٢) ويقدم النساء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت حارث جب مردوں اور عورتوں کی نماز جنازہ ادا فرماتے تو مردوں کے جنازے امام کے قریب رکھتے اور عورتوں کو ان سے آگے رکھتے۔
١١٩١٥ - حدثنا حاتم بن وردان عن يونس عن عمار مولى بني هاشم قال: شهدت أم كلثوم وزيد (بن عمر) (١) ماتا في ساعة واحدة فأخرجوهما فصلى عليهما سعيد بن (العاص) (٢)، فجعل زيدًا مما يليه وجعل أم كلثوم بين يدي زيد وفي الناس يومئذ ناس من أصحاب النبي ﷺ، والحسن والحسين في (الجنازة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار جو بنو ہاشم کے غلام ہیں فرماتے ہیں حضرت ام کلثوم اور حضرت زید بن عمر ایک ہی دن فوت ہوئے اور میں ان کے جنازے میں شریک تھا۔ ان دونوں کو ایک ساتھ جنازے کے لیے نکالا گیا۔ حضرت سعید بن عاص نے ان کی نماز جنازہ ادا فرمائی، انہوں نے حضرت زید کو امام کے قریب رکھا اور حضرت ام کلثوم کو زید کے سامنے، اور اس دن نماز جنازہ ادا کرنے والوں میں صحابہ کرام بھی تھے ان میں حضرت حسین اور حضرت حسن بھی تھے۔ (کسی نے اس پر اختلاف نہ کیا) ۔
١١٩١٦ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق (عن الحارث) (١) عن علي قال: إذا اجتمعت جنائز (رجال) (٢) ونساء (جعل) (٣) الرجال (٤) مما يلي الإمام والنساء ⦗٧٢⦘ (مما) (٥) يلي القبلة، (والحر) (٦) والعبد يجعل الحر مما يلي الإمام والعبد مما يلي القبلة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ جب عورتوں اور مردوں کا جنازہ اکٹھا ہوتا تو مردوں کو امام کے قریب رکھتے اور عورتوں کو قبلہ کے قریب، اگر آزاد اور غلام کا جنازہ ہوتا تو آزاد کو امام کے قریب اور غلام کو قبلہ کے قریب۔
١١٩١٧ - حدثنا حماد بن مسعدة عن عبد ربه بن أبي راشد قال: كان الناس في طاعون الجارف يصلون على جنائز الرجال (والنساء) (١) متفرقين، (قال) (٢) فجاء جابر بن زيد فيما يحعسب عبد ربه فجعل النساء أمام الرجال فصلى عليهم جميعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد ربہ بن ابی راشد فرماتے ہیں کہ لوگ ہمہ گیر تباہی مچانے والے طاعون میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوئے تو مردوں اور عورتوں کی نماز جنازہ تنہا، تنہا ادا کی گئی۔ پھر حضرت جابر بن زید (حضرت عبد ربہ کے گمان کے مطابق) تشریف لائے، انہوں نے عورتوں کی میت کو مرد کے آگے رکھ کر ان سب پر اکھٹے نماز ادا کی۔
١١٩١٨ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه: كان إذا صلى على (جنائز) (١) الرجال والنساء، جعل الرجال مما يلي الإمام (و) (٢) النساء وراء ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زہری جب مردوں اور عورتوں کی اکھٹے نماز جنازہ ادا فرماتے تو مردوں کو امام کے قریب رکھتے اور عورتوں کو ان کے پیچھے۔
١١٩١٩ - حدثنا وكيع عن سفيان وشعبة عن أبي حصين عن موسى بن طلحة عن عثمان أنه صلى على رجل وامرأة فجعل الرجل مما يليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان نے مرد اور عورت کا جنازہ اکٹھا پڑھایا، آپ نے مرد کی میت کو امام کے قریب رکھا۔
١١٩٢٠ - (حدثنا جعفر بن عون عن ابن جريج عن سليمان بن موسى) (١) عن واثلة قال: وقع الطاعون بالشام فمات فيه بشر كثير فكان يصلي على الرجال ⦗٧٣⦘ والنساء جميعا، يجعل (الرجال) (٢) مما يليه والنساء مما يلي القبلة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت واثلہ سے مروی ہے کہ شام میں طاعون پھیلا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ ھلاک ہوئے، تو مردوں اور عورتوں کی نماز جنازہ اکٹھی ادا کی گئی، مردوں کی میت کو امام کے قریب رکھا اور عورتوں کی میت قبلہ کے قریب۔
١١٩٢١ - [حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي قال: إذا اجتمع جنائز رجال ونساء جعل الرجال مما يلي الإمام، والنساء أمام ذلك ما يلي القبلة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب عورتوں اور مردوں کی نماز جنازہ اکٹھی ادا کی جائے تو مردوں کو امام کے قریب اور عورتوں کو قبلہ کے قریب رکھا جائے گا۔
١١٩٢٢ - حدثنا ابن مسهر عن الشيباني عن الشعبي قال: صلى عبد اللَّه بن عمر على أم كلثوم بنت علي وابنها زيد قال: فجعل الغلام مما يليه والمرأة مما (يلي) (١) القبلة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے حضرت زید کی نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ نے لڑکے کو امام کے قریب اور عورت کو قبلہ کے قریب رکھا۔