کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: بعض حضرات نماز جنازہ میں تین تکبیریں پڑھتے ہیں
❮
❯
١١٧٩٨ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن أبي (معبد) (١) قال: كان ابن عباس يجمع الناس بالحمد ويكبر على الجنازة ثلاثًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معبد فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز جنازہ میں سورة فاتحہ پڑھتے اور تین بار تکبیر کہتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11798
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11798، ترقيم محمد عوامة 11574)
١١٧٩٩ - حدثنا معاذ (بن معاذ) (١) عن عمران بن (حدير) (٢) قال: صليت مع أنس بن مالك على (جنازة) (٣) فكبر عليها ثلاثًا لم يزد عليها ثم انصرف (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی آپ نے تین تکبیریں پڑھیں اس پر اضافہ نہ کیا اور پھر آپ واپس لوٹ گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11799
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11799، ترقيم محمد عوامة 11575)
١١٨٠٠ - حدثنا زيد بن الحباب عن القاسم قال: أخبرني أبي أنه (صلى) (١) على جنازة فقال له جابر بن زيد: تقدم، فكبر عليها ثلاثًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد صاحب نے بتایا کہ وہ ایک جنازے میں تھے تو ان سے حضرت جابر بن زید نے فرمایا آپ آگے ہو جاؤ۔ اور اس پر تین تکبیریں پڑھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11800
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11800، ترقيم محمد عوامة 11576)