کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بعض حضرات نے جنازے میں سوار ہو کر اور اسکے آگے چلنے کو ناپسند سمجھا ہے
١١٥٨٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي همام السكوني وهو الوليد بن قيس عن أبي (هريرة) (١) أن رسول اللَّه ﷺ أتي بدابة وهو في (جنازة) (٢) فلم يركب، فلما انصرف ركب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ھبیرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے ایک جنازہ میں سواری لائی گئی لیکن آپ اس پر سوار نہ ہوئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے تو اس پر سوار ہوئے۔
١١٥٩٠ - حدثنا (جرير) (١) عن منصور عن إبراهيم قال: قلت لعلقمة: أيكره المشي خلف الجنازة؟ قال: لا، إنما يكره السير أمامها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ سے دریافت کیا، کیا جنازے کے پیچھے چلنا مکروہ ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اس کے آگے چلنا ناپسندیدہ ہے۔
١١٥٩١ - حدثنا يحيى بن سعيد (عن) (١) ابن أبي رواد قال: حدثنا أبو سعيد عن زيد بن أرقم قال: لو يعلم رجال يركبون في الجنازة ما لرجال يمشون ما ركبوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنازے میں جو لوگ سوار ہو کر جاتے ہیں اگر وہ یہ جان لیں کہ پید ل چلنے والوں کے لئے کتنا اجر ہے تو وہ سوار نہ ہوں۔
١١٥٩٢ - حدثنا وكيع عن ثور عن (راشد بن سعد عن ثوبان أنه رأى رجلًا راكبًا في جنازة فأخذ بلجام دابته فجعل يكبحها وقال: تركب) (١)، وعباد اللَّه يمشون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت راشد بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت ثوبان نے ایک شخص کو جنازے میں سوار دیکھا تو اس کی سواری کی لگام پکڑ کر اس کو روک دیا اور فرمایا تو سوار ہو کر چلتا ہے جبکہ اللہ کے بندے پیدل چل رہے ہیں۔
١١٥٩٣ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون أن يسير الراكب أمامها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں صحابہ کرام اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ سوار ہو کر جنازے کے آگے چلا جائے۔
١١٥٩٤ - حدثنا الفضل بن (دكين) (١) عن إسرائيل عن عبد الأعلى عن سعيد ابن جبير عن ابن عباس قال: الراكب في الجنازة كالجالس في بيته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جنازے میں سوار ہو کر جانے والا ایسا ہی ہے جیسے گھر میں بیٹھنے والا۔
١١٥٩٥ - [حدثنا معاذ (بن معاذ عن) (١) ابن عون قال: كان الحسن وابن سيرين لا يسيران أمام الجنازة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حسن اور ابن سیرین جنازہ کے آگے نہ چلا کرتے تھے۔
١١٥٩٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الأعلى عن سعيد (بن جبير) (١) عن ابن عباس قال: الراكب في الجنازة كالجالس في بيته] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں جنازے میں سوار ہو کر جانے والا ایسا ہی ہے جیسے گھر میں بیٹھنے والا۔