حدیث نمبر: 11547
١١٥٤٧ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا عثمان بن حكيم عن (خارجة) (١) بن زيد عن عمه يزيد بن ثابت وكان أكبر من زيد قال: خرجنا مع رسول اللَّه ﷺ فلما وردنا البقيع إذا هو بقبر جديد (فسأل) (٢) عنه فقالوا: فلانة فعرفها، قال: فقال: "أفلا آذنتموني بها"، قالوا: كنت قائلا (صائمًا) (٣) فكرهنا أن نؤذنك، فقال: "لا تفعلوا، لا أعرفن، ما مات منكم ميت ما (كنت) (٤) بين أظهركم إلا آذنتموني به ⦗٥٣٥⦘ فإن صلاتي عليه (له) (٥) رحمة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خارجہ بن زید انپے چچا حضرت یزید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت زید سے بڑے تھے، فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے، جب ہم جنت البقیع میں آئے تو وہاں پر ایک نئی قبر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا : لوگوں نے عرض کیا فلاں عورت کی قبر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا : تم نے مجھے اس کی اطلاع کیوں نہ دی ؟ لوگوں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا تھا اس لیے ہم نے آپ کو اطلاع دینا ناپسند سمجھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوجائے تو تم ہرگز اس کا اعلان مت کرو مگر مجھے اس کے بارے میں اطلاع دیدو۔ بیشک میرا اس پر نماز پڑھنا اسکے لیے رحمت کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 11548
١١٥٤٨ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون عن محمد أنه كان لا يرى بأسًا أن يؤذن الرجل حميمه وصديقه بالجنازة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں محمد اس بات مںْ کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ آدمی جنازے کی اطلاع رشتہ داروں اور دوستوں کو کر دے۔
حدیث نمبر: 11549
١١٥٤٩ - حدثنا عبدة عن هشام بن عروة (عن عبد اللَّه بن عروة) (١) أن أبا هريرة كان يؤذن بالجنازة فيمر بالمسجد فيقول: عبد اللَّه دُعِيَ فأجاب أو أمة اللَّه دُعيت فأجابت، فلا يقوم معه إلا القليل منهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عروہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک جنازے پر بلایا گیا تو وہ مسجد سے گذرے اور یوں فرما رہے تھے کہ اللہ کا بندہ بلایا گیا ہے پس اس نے قبول کیا، یا اللہ کی لونڈی بلائی گئی پس اس نے قبول کیا، پس ان کے ساتھ ان میں سے چند لوگ ہی کھڑے ہوتے۔
حدیث نمبر: 11550
١١٥٥٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن أبي حيان عن أبيه قال: كان عمرو بن ميمون صديقًا للربيع بن (خثيم) (١) فلما ثقل قال عمرو لأم ولد الربيع بن خثيم: أعلميني إذا مات، فقالت: إنه قال: إذا أنا مت (فلا) (٢) تشعري بي أحدًا وسلوني إلى ربي سلًّا قال: فبات عمرو على دكاكين بني ثور حتى أصبح فشهده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون حضرت ربیع بن خیثم کے دوست تھے، جب حضرت ربیع بن خیثم پر زندگی دشوار ہوگئی تو حضرت عمرو بن میمون نے ان کے ام ولد سے کہا جب وہ فوت ہوجائیں تو مجھے اطلاع دینا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت ربیع نے کہا ہے کہ جب میں مر جاؤں تو میرے بارے میں کسی کو خبر مت دینا اور مجھے خفیہ طور پر دفن کردینا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون نے بنی ثور کے چبوترے پر رات گذاری یہاں تک کہ صبح ہوگی پھر وہ اس کے پاس حاضر ہوئے۔
حدیث نمبر: 11551
١١٥٥١ - حدثنا محمد بن يزيد عن هشام الدستوائي عن حماد عن إبراهيم: أنه كان لا يرى بأسًا أن يؤذن بالميت صديقه وقال: إنما كانوا يكرهون نعيًا كنعي الجاهلية أنعى فلانًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد سے مروی ہے کہ ابراہیم اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ مرنے کے بعد میت کے دوست کو اطلاع کی جائے۔ وہ فرماتے تھے کہ صحابہ کرام جاہلیت کی طرح اطلاع دینے کو ناپسند سمجھتے تھے کہ فلاں کو خبر دی جائے۔
حدیث نمبر: 11552
١١٥٥٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن إسماعيل بن أبي خالد عن النعمان قال: كان علي إذا دعي إلى جنازة قال: إنا (القائمون) (١) وما يصلي على المرء إلا عمله (٢).
حدیث نمبر: 11553
١١٥٥٣ - حدثنا سعيد بن يحيى (الحميري) (١) عن سفيان بن حسين عن الزهري عن أبي أمامة بن سهل عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ يعود فقراء أهل المدينة ويشهد جنائزهم إذا ماتوا قال: فتوفيت امرأة من أهل العوالي فقال رسول اللَّه ﷺ: "إذا حضرت فآذنوني (بها) (٢) " قال: فأتوه (ليؤذنوه) (٣) فوجدوه نائمًا وقد ذهب من الليل فكرهوا أن يوقظوه، وتخوفوا عليه ظلمة الليل وهوام الأرض، فلما أصبح سأل عنها فقالوا: يا رسول اللَّه أتيناك لنؤذنك بها فوجدناك نائمًا فكرهنا أن نوقظك، وتخوفنا عليك ظلمة الليل وهوام الأرض، قال: فدفناها (هناك) (٤)، فمشى رسول اللَّه ﷺ إلى قبرها فصلى عليها وكبر أربعًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوامامہ بن سھل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اھل مدینہ کے فقراء کی عیادت فرماتے اور ان کے جنازے میں شرکت فرماتے ، اھل عوالی میں سے ایک عورت مرگئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب اس کے پاس موت آجائے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب لوگ اطلاع دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کو آرام کرتا ہوا پایا اور اس وقت رات کا کچھ حصہ گذر چکا تھا۔ انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیند سے جگایا جائے، انہوں نے خوف محسوس کیا رات کی تاریکی اور زمین کے کیڑے پتنگوں کی وجہ سے۔ جب صبح ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں دریافت فرمایا : لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے تھے لیکن ہم نے آپ کو نیند میں پایا تو جگانا مناسب نہ سمجھا اور رات کی تاریکی اور زمین کے شیر نے ہمیں خوف زدہ کردیا۔ اس لیے ہم نے اس کو دفن کردیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ سن کر) ہمارے ساتھ چلے اور اس خاتون کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز پڑھی اور چار تکبیریں پڑھیں۔