حدیث نمبر: 11295
١١٢٩٥ - حدثنا (مُعمَّر) (١) بن سليمان الرقي عن حجاج عن داود بن حصين عن عكرمة عن ابن عباس قال: الرجل أحق (بغسل) (٢) (امرأته) (٣) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی بیوی کو غسل دینے کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 11296
١١٢٩٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن أنه كان لا يرى (بذلك) (١) بأسًا أن يغسل الرجل امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن مرد کے اپنی بیوی کو غسل دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 11297
١١٢٩٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج قال: قال عبد الرحمن بن الأسود: (ابن) (١) أم امرأتي (و) (٢) أختها أن تغسلها فوليت غسلها بنفسي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن اسود فرماتے ہیں کہ میری ساس یا سالی نے میری بیوی کو غسل دینے سے انکار کردیا تو میں نے خود اس کو غسل دیا۔
حدیث نمبر: 11298
١١٢٩٨ - حدثنا وكيع بن الجراح عن سفيان عن حماد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان، حضرت عمرو، حسن وغیرھم فرماتے ہیں کہ میاں، بیوی میں سے ہر ایک دوسرے کو غسل دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 11299
١١٢٩٩ - وعن (سفيان) (١) عن عمرو عن الحسن قالا: يغسل كل واحد منهما صاحبه.
حدیث نمبر: 11300
١١٣٠٠ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن عبيد اللَّه عن محمد بن ⦗٤٧٨⦘ عمرو (بن) (١) عطاء عن أبي سلمة في المرأة تموت مع (الرجال) (٢) (ليس) (٣) معهم امرأة قال: يغسلها زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ سے دریافت کیا گیا کہ عورت مردوں کے ساتھ فوت ہوجائے اور وہاں کوئی عورت نہ ہو تو ؟ آپ نے فرمایا اس کا شوہر اس کو غسل دے۔
حدیث نمبر: 11301
١١٣٠١ - حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن الشعبي قال: [إذا ماتت المرأة انقطع عصمة ما بينها وبين زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی فرماتے ہیں کہ جب عورت کا انتقال ہوجائے تو اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان رشتہ ختم ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 11302
١١٣٠٢ - حدثنا يحيى بن اليمان عن سفيان عن أشعث عن الشعبي قال] (١): لا يغسل الرجل امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی بیوی کو غسل نہیں دے سکتا۔ یہی حضرت امام سفیان کی رائے ہے۔
حدیث نمبر: 11303
١١٣٠٣ - وهو رأي (١) سفيان.
حدیث نمبر: 11304
١١٣٠٤ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن بشر (بن) (١) عبد اللَّه [(بن يسار) (٢) قال: سمعت سليمان بن موسى (يقول: يغسل) (٣) الرجل امرأته] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سلیمان بن موسیٰ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ آدمی اپنی بیوی کو غسل دے گا۔
حدیث نمبر: 11305
١١٣٠٥ - حدثنا حفص بن غياث عن ليث عن يزيد بن أبي سليمان عن مسروق قال: ماتت امرأة لعمر فقال: أنا كانت أولى بها إذ كانت حية؛ فأما الآن فأنتم أولى بها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا آپ نے فرمایا جب یہ زندہ تھی اس وقت میں ہی اسکا سب سے زیادہ حقدار تھا، اور آج تم اس کے زیادہ حق دار ہو۔
حدیث نمبر: 11306
١١٣٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن عوف قال: كنت في مجلس (فيه) (١) قسامة بن زهير وأشياخ قد أدركوا عمر بن الخطاب فقال رجل: كانت تحتي امرأة من بني عامر ابن صعصعة وكان يثني عليها (خيرًا) (٢)، فلما كان زمن طاعون (الجارف) (٣) طُعنت، فلما ثقلت قالت: إني امرأة غريبة فلا يليني غيرك، فماتت فغسلتها ووليتها قال عوف: فما رأيت أحدًا من أولئك الأشياخ (عتب) (٤) ولا عاب (عليه) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ میں قسامہ بن زھیر کی مجلس میں موجود تھا، اس مجلس میں کچھ شیخ حضرات بھی تھے جنہوں نے حضرت عمر کا زمانہ پایا تھا، ایک شخص نے کہا : بنو عامر بن صعصعہ کی ایک عورت میری زوجہ تھی، اور اس شخص نے اس کی خیر والی (خیر کے ساتھ) مدح کی اور کہا جب خطر ناک طاعون پھیلا تو اس کو بھی طاعون کی بیماری لگ گئی، جب وہ قریب المرگ ہوئی تو کہنے لگی کہ میں ایک غریب عورت ہوں تیرے علاوہ میرے لئے کوئی حقدار اور مناسب نہیں ہے اور پھر وہ عورت مرگئی میں نے اس کو غسل دیا اور دفن کردیا۔ حضرت عوف فرماتے ہیں کہ ان بزرگوں میں سے کسی نے بھی اس کو اس فعل پر ملامت نہ کی اور نہ ہی اس کی زجر و توبیخ کی۔