کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: آدمی عورتوں کے ساتھ مر جائے اور وہاں کوئی مرد نہ ہو یا عورت مردوں کیساتھ مر جائے اور وہاں عورت کوئی نہ ہو
حدیث نمبر: 11278
١١٢٧٨ - حدثنا جرير بن عبد الحميد (عن العلاء بن المسيب) (١) عن إبراهيم إذا ماتت المرأة [(في) (٢) الرجال] (٣) ليس معهم امرأة صُبَّ عليها الماء (من فوق) (٤) الثياب صبا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عورت مردوں کے ساتھ مرجائے اور ان کے ساتھ کوئی عورت نہ ہو تو اس پر اس کے کپڑوں کے اوپر سے پانی بہا کر اس کو غسل دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 11279
١١٢٧٩ - (حدثنا شريك) (١) عن عبد الكريم عن نافع قال: قلت لصفية بنت ⦗٤٧٣⦘ أبي (عبيد) (٢) [(٣) المرأة تموت مع الرجال (و) (٤) ليس معهم امرأة قالت: (تيمم ثم) (٥) (يدفنونها) (٦) في ثيابها] (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت صفیہ بنت ابی عبید سے پوچھا کہ اگر عورت مردوں کے ساتھ مرجائے اور ان کے ساتھ کوئی عورت نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا اس کو، اس کے کپڑوں میں ہی دفن کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 11280
١١٢٨٠ - (حدثنا أبو بكر بن عياش عن ليث عن عطاء في) (١) المرأة تموت مع الرجال قال: تيمم ثم تدفن (في ثيابها) (٢) (قال) (٣): (والرجل) (٤) مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے پوچھا گیا کہ عورت اگر مردوں کے ساتھ مرجائے ؟ آپ نے فرمایا اس کو تیمم کروایا جائے اور پھر انہی کپڑوں میں دفن کردیا جائے، اور مرد کا بھی یہی حکم ہے (اگر وہ عورت میں مرے) ۔
حدیث نمبر: 11281
١١٢٨١ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأحوص عن راشد بن (سعد (١) عن) (٢) سعيد بن المسيب أنه قال: إذا ماتت المرأة مع الرجال ليس معهم امرأة قال: (ييممونها) (٣) بالصعيد ولا يغسلونها، وإذا مات الرجل مع النساء فكذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جب عورت مردوں کے ساتھ مرجائے اور ان کے ساتھ کوئی عورت نہ ہو تو مرد اس کو مٹی سے تیمم کرائیں گے اور غسل نہیں دیں گے۔ اور اگر آدمی عورتوں کے ساتھ مرجائے تو بھی اسی طرح کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 11282
١١٢٨٢ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد قال: تيمم بالصعيد (والرجل) (١) كذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اس کو پاک مٹی سے تیمم کروایا جائے اور مرد کا حکم بھی اسی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 11283
١١٢٨٣ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن (عبيد اللَّه) (١) عن محمد ابن عمرو بن (عطاء) (٢) عن أبي سلمة (٣) في الرجل يموت مع النساء (قال) (٤): تغسله امرأته فإن لم (تكن) (٥) امرأته (فلييمم) (٦) بالصعيد، والمرأة تموت مع الرجال ليست معهم امرأة قال: يغسلها زوجها، فإن لم يكن (٧) فنساء من نساء أهل الكتاب (يصبون) (٨) (لهن) (٩) (فيغسلنها) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ سے دریافت کیا گیا کہ اگر آدمی عورتوں کے ساتھ مرجائے ؟ آپ نے فرمایا اس کی بیوی اس کو غسل دیدے۔ اور اگر اسکی بیوی بھی نہ ہو تو اسکو تیمم کروایا جائے، اور اگر عورت مردوں کے ساتھ مرجائے اور ان کے ساتھ کوئی عورت نہ ہو تو اس کا شوہر اس کو غسل دیدے، اگر شوہر بھی نہ ہو تو اہل کتاب کی عورتیں اس پر پانی بہائیں گی اور اسے غسل دیں گی۔
حدیث نمبر: 11284
١١٢٨٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عطاء في (المرأة) (١) تموت مع الرجال قال: يصبون عليها الماء (صبًا) (٢) ثم يدفنونها (وفي) (٣) (الرجل) (٤) يموت مع النساء (يصببن) (٥) عليه الماء ثم (يدفنه) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عورت اگر مردوں کے ساتھ مرجائے، فرماتے ہیں کہ مرد اس پر پانی بہائیں گے پھر دفن کردیں گے، اور اگر آدمی عورتوں میں مرجائے تو وہ عورتیں اس پر پانی بہائیں گی اور اس کو دفن کردیں گے۔
حدیث نمبر: 11285
١١٢٨٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن سعيد (عن مطر) (١) عن نافع عن ابن عمر في المرأة تموت مع الرجال قال: (تغمس) (٢) في الماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ عورت اگر مردوں کے ساتھ مرجائے، آپ فرماتے ہیں اس کو پانی میں غوطہ دیں گے۔