١١٢٧٥ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن (حجاج) (١) عن عطاء قال: لا بأس أن يغسل الميت الحائض والجنب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جنبی اور حائضہ میت کو غسل دیں اس میں کوئی حرج نہیں۔
١١٢٧٦ - حدثنا معاذ بن معاذ عن أشعث عن الحسن وابن سيرين أنهما كانا يكرهان أن (تغسل) (١) (الحائض والجنب) (٢) الميت.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ جنبی اور حائضہ میت کو غسل دیں۔
١١٢٧٧ - (حدثنا وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: أرسلت أمي إلى علقمة تسأله عن الحائض تغسل الميت فلم ير به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراھیم فرماتے ہیں کہ میری والدہ نے مجھے حضرت علقمہ کے پاس یہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا کہ حائضہ عورت میت کو غسل دے سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔