١١٢٦٩ - حدثنا (١) عبد الرحمن بن مهدي (ووكيع) (٢) عن سفيان عن يزيد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى في الميت يسقط من شعره (وأظفاره) (٣) قال: يجعل معه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے دریافت کیا گیا میت کے ناخن اور بال کاٹنے کے بعد (ان کا کیا کیا جائے) ؟ آپ نے فرمایا اس کے ساتھ ہی رکھے جائیں۔
١١٢٧٠ - حدثنا حفص بن غياث عن عاصم عن ابن سيرين وبنات سيرين (قالوا) (١): يدفن مع الميت ما يسقط من شعر أو غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم حضرت ابن سیرین سے اور سیرین کی بیٹیوں سے روایت کرتے ہیں کہ میت کے بال وغیرہ جو کاٹے جائیں وہ میت کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔
١١٢٧١ - حدثنا غندر عن عثمان بن (غياث) (١) قال: سمعت الحسن يقول: يقلم أظفار الميت وشاربه إذا طال قال: قلت للحسن: يوضع معه قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن غیاث فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے سنا کہ میت کے ناخن اور مونچھیں اگر بڑھی ہوئی ہوں تو کاٹی جائیں گی، میں نے حضرت سے دریافت کیا کہ ان کو اس کے ساتھ قبر میں رکھا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔
١١٢٧٢ - حدثنا ابن مهدي عن (حماد) (١) بن (زيد) (٢) عن أيوب عن أبي قلابة (٣) قال: (كان) (٤) (يحب) (٥) أن يجعل معه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ بہتر یہی ہے کہ ان کو اس کے ساتھ ہی قبر میں رکھا جائے۔
١١٢٧٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن يزيد بن أبي زياد عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى أن قيس بن سعد مر على رجل قد (بانت) (١) إصبعه منه (فقبرت) (٢) معه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد ایک شخص کے پاس سے گزرے اس کی انگلی الگ ہوگئی تھی آپ نے اس کے ساتھ اس کو قبر میں رکھ دیا۔
١١٢٧٤ - حدثنا الثقفي (عن) (١) خالد (الحذاء) (٢) عن حفصة أنها (قالت) (٣): سرح شعر الميت فإنه يجعل معه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ میت کے بالوں کو کنگھا کر کے (سیدھا) کیا جائے اور اس کے (ٹوٹے ہوئے) بالوں کو اس کے ساتھ قبر میں رکھا جائے گا۔