١١٠٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبد الرحيم عن محمد بن إسحاق عن عاصم ابن عمر عن محمود بن لبيد عن رافع بن خديج قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "العامل على الصدقة بالحق كالغازي (في سبيل اللَّه) (١) حتى يرجع إلى بيته" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : عامل (زکوٰۃ و صدقات وصول کرنے والا) کا صدقہ میں حق ہے جیسا کہ غازی کا اللہ کی راہ میں جب تک کہ وہ واپس گھر نہ لوٹ آئے۔
١١٠٢٥ - حدثنا أبو أسامة عن (بريد) (١) بن (عبد اللَّه) (٢) بن أبي (بردة) (٣) عن جده (عن) (٤) أبي موسى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن الخازن الأمين الذي يعطي ما أمر به كاملًا موفرًا طيبة به نفسه (حتى) (٥) يدفعه (إلى) (٦) الذي أمر به (أحد) (٧) المتصدقين" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک امانت دار خازن وہ ہے جو عطا کرے کہ جس کو جس چیز کے دینے کا حکم ہو تو وہ اس چیز کو مکمل وافر اور طیب خاطر سے اس متصدق کو دے دے کہ جس کو دینے کا اس کو حکم ملا ہے۔
١١٠٢٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن الحسن بن مسلم المكي قال: بعث عمر بن الخطاب رجلًا من ثقيف على الصدقة، فرآه بعد ذلك اليوم فقال: ألا أراك (ولك) (١) (كأجر) (٢) المغازي في سبيل اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن مسلم المکی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق نے بنو ثقیف میں سے ایک شخص کو صدقات (وصول کرنے کیلئے) بھیجا، پھر اس کے بعد آپ نے اس کو دیکھا تو اس سے فرمایا : کیا تو نہیں دیکھتا کہ تیرے لیے بھی اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے والے) غازی کی مثل اجر ہے۔
١١٠٢٧ - حدثنا أبو أسامة (و) (١) وكيع عن سفيان عن زياد (بن) (٢) أبي عثمان عن ثابت عن الحسن قال: من دفعت إليه الصدقة فوضعها مواضعها فله أجر صاحبها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جس شخص کو صدقہ دیا گیا پھر اس نے اس کو، اس کی جگہ پر رکھ دیا تو اس کے لئے بھی اس کے مالک جتنا اجر ہے۔