کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جس مال پر زکوٰۃ ادا کر دی گئی وہ کنز شمار نہیں ہو گا
حدیث نمبر: 10816
١٠٨١٦ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن ابن عجلان (عن سعيد بن أبي) (٢) سعيد أن عمر سأل" (رجلًا) (٣) (عن) (٤) أرض له باعها، فقال له: أحرز مالك (واحفر) (٥) له تحت فراش امرأتك (قال) (٦): يا أمير المؤمنين أليس (بكنز) (٧) ⦗٣٣٤⦘ (فقال: ليس بكنز) (٨) ما أدى زكاته (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے ایک شخص سے اس زمین کے بارے میں جس کو اس نے بیچ دیا تھا دریافت فرمایا، اور اس سے فرمایا : اپنے مال کو جمع کر اور اس کے لیے اپنی بیوی کی چار پائی کے نیچے جگہ کھود، اس شخص نے عرض کیا اے امیر المؤمنین کیا یہ خزانہ شمار ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جس کی زکوٰۃ ادا کردی گئی ہو وہ خزانہ شمار نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10816
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10816، ترقيم محمد عوامة 10618)
حدیث نمبر: 10817
١٠٨١٧ - [حدثنا ابن علية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن محمد بن (أبي) (١) (حرملة) (٢) عن سعيد بن (المسيب) (٣) قال: ما أدى زكاته] (٤) فليس (بكنز) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ جس کی زکوٰۃ ادا کردی جائے وہ خزانہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10817
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10817، ترقيم محمد عوامة 10619)
حدیث نمبر: 10818
١٠٨١٨ - [حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن أبي الزبير عن جابر قال: أي مال أدي زكاته فليس بكنز] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہر وہ مال جس پر زکوٰۃ ادا کردی جائے وہ خزانہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10818
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10818، ترقيم محمد عوامة 10620)
حدیث نمبر: 10819
١٠٨١٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن مكحول عن ابن عمر مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10819
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10819، ترقيم محمد عوامة 10621)
حدیث نمبر: 10820
١٠٨٢٠ - حدثنا وكيع عن شريك عن أبي إسحاق عن (عكرمة) (١) عن ابن عباس قال: ما أدي زكاته (فليس (بكنز)) (٢) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہر وہ مال جس پر زکوٰۃ ادا کردی جائے وہ خزانہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10820
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10820، ترقيم محمد عوامة 10622)
حدیث نمبر: 10821
١٠٨٢١ - [حدثنا ابن فضيل عن حنظلة عن مجاهد وعطاء قالا: ليس (المال) (١) (بكنز) (٢) إذا أدي زكاته] (٣) وإن كان تحت الأرض وإن كان لا يؤدي زكاته فهو (كنز) (٤) وإن كان على وجه الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جس مال پر زکوٰۃ ادا کردی جائے وہ کنز نہیں ہے اگرچہ وہ مال زمین کے نیچے دفن ہو۔ اور جس مال پر زکوٰۃ ادا نہیں کی گئی وہ کنز ہے اگرچہ زمین کے اوپر ہی کیوں نہ موجود ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10821
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10821، ترقيم محمد عوامة 10623)
حدیث نمبر: 10822
١٠٨٢٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عطية عن ابن عمر قال: "وجد لرجل عشرة الآف بعد موته مدفونة، قال: فقالوا: هذا (كنز) (١) ما كان يؤدي زكاته فقال ابن عمر: لعله كان يؤدى عنها من غيرها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص کے مرنے کے بعد دس ہزار درہم اس کا خزانہ (مدفون) نکلا۔ لوگوں نے کہا یہ وہ خزانہ ہے جس پر زکوٰۃ نہیں ادا کی گئی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہوسکتا ہے وہ اس کے علاوہ مال سے اس کی زکوٰۃ ادا کرتا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10822
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عطية.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10822، ترقيم محمد عوامة 10624)