کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ مال پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی حقوق ہیں
١٠٨٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) حفص عن الأعمش عن إبراهيم قال: كانوا يرون في أموالهم (حقًا) (٢) سوى الزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ صحابہ کرام مال پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی کچھ حقوق سمجھتے تھے۔
١٠٨٢٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور وابن أبي نجيح عن مجاهد: ﴿فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ﴾ [المعارج: ٢٤]، قال: سوى الزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیت { فِی أَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ} یہ زکوٰۃ کے علاوہ حقوق ہیں۔
١٠٨٢٥ - حدثنا ابن فضيل عن بيان عن عامر قال: (في) (١) المال حق سوى الزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ مال پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔
١٠٨٢٦ - حدثنا (معاذ) (١) قال: حدثنا حاتم بن أبي صغيرة أبو يونس قال: (حدثنا) (٢) (رياح) (٣) (بن) (٤) عبيدة عن (قزعة) (٥) قال: قلت لابن عمر: إن لي مالًا فما تأمرني؟ إلى (من) (٦) أدفع زكاته؟ قال: ادفعها إلى (ولي) (٧) القوم -يعني الأمراء- ولكن في مالك حق سوى ذلك يا (قزعة) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قزعہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت فرمایا کہ میرے پاس کچھ مال ہے آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں کہ میں زکوٰۃ کس کو ادا کروں ؟ آپ نے فرمایا قوم کے امراء (امیر) کو۔ لیکن اے قزعہ تیرے مال پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی حقوق ہیں۔
١٠٨٢٧ - حدثنا ابن علية عن ابن أبي حيان قال: (حدثني) (١) مزاحم بن زفر قال: (كنت) (٢) جالسًا عند عطاء، فأتاه أعرابي، فسأله: إن لي إبلًا فهل علي (فيها) (٣) حق بعد الصدقة؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مزاحم بن زفر فرماتے ہیں کہ میں حصرت عطاء کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابی آیا اور دریافت کیا کہ میرے پاس اونٹ ہیں کیا مجھ پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی کچھ حق ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں۔
١٠٨٢٨ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عكرمة عن ابن عباس قال: من أدى زكاة ماله فليس عليه جناح أن لا يتصدق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس شخص نے مال پر زکوٰۃ ادا کردی ہے وہ صدقہ نہ بھی کرے تو کوئی حرج (گناہ) نہیں ہے۔
١٠٨٢٩ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن (الحسن) (١) قال: في المال حق سوى الزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔