کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جس شخص کے پاس پچاس درہم موجود ہوں اسکو زکوٰۃ دینا جائز نہیں
١٠٧٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن الحجاج عن الحسن بن (سعد) (١) عن (أبيه عن علي وعبد اللَّه) (٢) قالا: لا تحل الصدقة لمن له خمسون درهمًا (أو عرضها من الذهب) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کے پاس پچاس درہم یا سونے کا کچھ سامان موجود ہو اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔
١٠٧٢٥ - حدثنا وكيع عن [سفيان (عن) (١) (حكيم) (٢) بن جبير عن] (٣) محمد بن عبد الرحمن [(بن) (٤) يزيد عن أبيه عن] (٥) عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من (سأل) (٦) وله ما يغنيه كان (خدوشًا) (٧) أو (كدوحًا) (٨) (يوم القيامة) (٩) "، (قيل) (١٠): يا رسول اللَّه وما غناؤه؟ قال: " (خمسون) (١١) درهمًا ⦗٣١٠⦘ أو حسابها من الذهب" (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے غنی ہونے کے باوجود سوال کیا قیامت کے دن وہ اپنے چہرے اور جسم کو نوچتا ہوا حاضر ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ غناء کی مقدار کتنی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پچاس درہم یا اس کی بقدر سونا (جس کے پاس ہو وہ غنی ہے) ۔
١٠٧٢٦ - حدثنا حفص عن عبيدة عن إبراهيم قال: (لا) (١) يعطى من الزكاة من له خمسون درهمًا ولا يعطى منها أكثر من خمسين (درهمًا) (٢).
١٠٧٢٧ - [حدثنا وكيع قال: كان سفيان وحسن يقولان: لا يعطى منها (من) (١) له خمسون درهمًا ولا يعطى منها أكثر من خمسين] (٢) إلا أن يكون عليه دين، فيقضى دينه ويعطي بعد خمسين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان اور حسن ارشاد فرماتے ہیں کہ جس کے پاس پچاس درہم موجود ہوں اس کو زکوٰۃ نہیں دی جائیگی اور نہ ہی پچاس دراھم سے زائد کسی کو دیا جائے گا۔ ہاں اگر کسی پر قرض ہو اور وہ اس سے قرض ادا کرے تو تو پھر پچاس دراہم سے زائد دے سکتے ہیں۔
١٠٧٢٨ - حدثنا عباد بن عوام عن مسعر قال: سمعت حمادًا يقول: من لم يكن عنده مال (يبلغ) (١) فيه الزكاة أعطي من الزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کے پاس اتنا مال نہ ہو جس پر زکوٰۃ آتی ہے اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہو۔