١٠٧١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن جريج عن عمرو بن دينار قال: قال عمر: إذا أعطيتم (فأغنوا) (١) يعني من الصدقة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جب تم کسی کو عطا کرو تو ا س کو غنی کردو صدقہ سے۔
١٠٧١٩ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون أن يعطوا من الزكاة ما يكون رأس مال.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ صحابہ کرام ناپسند فرماتے تھے کہ زکوٰۃ سے اتنا مال دیا جائے جو کہ رأس المال بن جائے۔
١٠٧٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الحسن بن [عمرو (عن) (١)] (٢) (أبي حمزة) (٣) عن إبراهيم قال: كان يستحب أن يسد بها ⦗٣٠٨⦘ حاجة أهل البيت (٤) بالزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ یہ بات پسندیدہ ہے کہ زکوٰۃ سے گھر والوں کی حاجت پوری کی جائے۔
١٠٧٢١ - حدثنا يحيى بن آدم عن سفيان عن (ابن) (١) حيان عن الضحاك قال: يعطى منها ما (بينه) (٢) وبين (المائتين) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ عطا کی جائے گی (ایک شخص کو) دو سو تک۔
١٠٧٢٢ - [حدثنا عائذ بن حبيب عن الربيع بن حبيب عن أبي جعفر قال: يعطى [(منها) (١) ما بينه وبين (المائتين) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ عطاء کی جائے گی (ایک شخص کو) دو سو تک۔
١٠٧٢٣ - حدثنا عمر (بن) (١) زرعة عن (ابن) (٢) سالم عن عامر قال: (أعط) (٣) من الزكاة] (٤) (ما دون) (٥) أن يحل (على) (٦) من (تعطيه) (٧) الزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ اتنی دو کہ جس کو زکوٰۃ دی ہے اس پر زکو ٰۃ نہ آجائے۔ (یعنی آپ کے دینے کی وجہ سے وہ صاحب نصاب بن جائے) ۔