حدیث نمبر: 10683
١٠٦٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معتمر عن) (١) برد عن مكحول قال: يعطي كل قوم بصاع أهل المدينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ ہر قوم مدینہ منورہ کے صاع سے صدقۃ الفطر ادا کرے گی۔
حدیث نمبر: 10684
١٠٦٨٤ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: بالمد الذي (تقوت) (١) به أهلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اس مد سے ادا کریں گے جس سے اپنے اہل و عیال کو خوراک وغذا دیتے ہو۔
حدیث نمبر: 10685
١٠٦٨٥ - حدثنا حماد بن مسعدة عن خالد بن أبي بكر قال: (كان) (١) سالم يخرج زكاة الفطر بصاع (السوق) (٢) يومئذ قبل أن (يغدو) (٣) ولا يخرج إلا (تمرًا) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابوبکر سے مروی ہے کہ حضرت سالم فرماتے ہیں کہ اس دن بازار میں جو صاع رائج ہے اس سے صدقۃ الفطر ناشتہ سے قبل ادا کیا جائے گا۔ اور صرف صدقۃ الفطر میں کھجور ہی ادا کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 10686
١٠٦٨٦ - حدثنا وكيع عن الربيع عن الحسن قال: يعطي كل قوم (بصاعهم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ہر قوم اپنے ہی صاع سے صدقۃ الفطر ادا کرے گی۔
حدیث نمبر: 10687
١٠٦٨٧ - حدثنا عبد الرحيم عن هشام بن عروة عن أبيه أو عن فاطمة عن أسماء قالت: بالمد والصاع الذي (يمتارون به) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسمائ فرماتی ہیں کہ اس مد اور صاع سے صدقۃ الفطر نکالیں گے جو ان کے درمیان رائج (گھومتا) ہو۔
حدیث نمبر: 10688
١٠٦٨٨ - حدثنا (عمر) (١) عن ابن جريج عن عطاء قال: (إذا) (٢) أعطيت ⦗٣٠٠⦘ (بمد) (٣) النبي ﷺ أجزأ عنك، وإن (أعطيت) (٤) بالمد الذي (تقوت) (٥) به أهلك أجزأ عنك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مد دیدو تو وہ بھی تمہارے لئے کافی ہے۔ اور اگر وہ مد دیدو جس سے تم اپنے اہل و عیال کو خوراک دے دیتے ہو تو وہ بھی تمہارے لئے کافی ہے۔ (دونوں مد برابر ہیں) ۔
حدیث نمبر: 10689
١٠٦٨٩ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جربج قال: قال عطاء: أحب إلي أن (تعطي) (١) بمكيالك اليوم (بمكيال) (٢) تأخذ به و (تقتات) (٣) به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مجھے تو یہ پسند ہے کہ تم صدقۃ الفطر ادا کرو اس کیل کے ساتھ جس کے ساتھ تم لیتے ہو اور دوسروں کو (خوراک) دیتے ہو۔