١٠٦٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) حفص عن الضحاك (بن) (٢) عثمان ⦗٢٩٨⦘ عن نافع عن ابن عمر قال: كان له (مكاتبان) (٣) فلم (يعط) (٤) عنهما (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے دو مکاتب غلام تھے آپ ان کا صدقۃ الفطر نہ ادا فرماتے تھے۔
١٠٦٧٩ - حدثنا (سهل) (١) بن يوسف عن عمرو عن الحسن أنه كان يرى عن المكاتب صدقة رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو سے مروی ہے کہ حسن مکاتب پر صدقۃ الفطر ادا کرنا ضروری سمجھتے تھے۔
١٠٦٨٠ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان (قال: بلغني) (١) أن ميمونًا كان يؤدي عن المكاتب (صدقة) (٢) الفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر معلوم ہوئی ہے کہ حضرت میمون مکاتب کی جانب سے صدقۃ الفطر ادا فرمایا کرتے تھے۔
١٠٦٨١ - حدثنا محمد بن (١) بكر عن ابن جريج عن عطاء قال: إن كان مكاتبًا فطرح عن نفسه [(فقد) (٢) كفى نفسه] (٣)، وإن لم يطرح عن نفسه (فيطعم) (٤) عنه سيده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر تو مکاتب کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہو تو ہ اپنے نفس کا خود کفیل اور ذمہ دار ہے۔ اور اگر اسکو آزاد نہ چھوڑا گیا ہو تو پھر آقا اس کی جانب سے صدقۃ الفطر ادا کرے گا۔
١٠٦٨٢ - حدثنا ابن الدراوردي عن موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر أنه كان لا يرى على المكاتب زكاة الفطر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکاتب پر صدقۃ الفطر کو ضروری نہ سمجھتے تھے۔