کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر غلام آقا سے غائب ہوں اس ہی کی زمین میں تو کیا اس کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 10670
١٠٦٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو خالد الأحمر عن الحارث بن أبي (ذباب) (٢) عن نافع أن ابن عمر كان يعطي عن غلمان له في أرض عمر الصدقة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے ان غلاموں کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا فرمایا کرتے تھے جو حضرت عمر کی زمین میں تھے (یعنی ان سے غائب تھے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10670
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الحارث وأبو خالد صدوقان.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10670، ترقيم محمد عوامة 10479)
حدیث نمبر: 10671
١٠٦٧١ - حدثنا وكيع عن هشام بن عروة (عن فاطمة) (١) عن أسماء أنها كانت ⦗٢٩٦⦘ تعطي صدقة الفطر عمن (تمون) (٢) من أهلها: (الشاهد) (٣) و (الغائب) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاطمہ سے مروی ہے کہ حضرت اسمائ ان سب کی جانب سے صدقۃ الفطر ادا فرمایا کرتی تھیں جو ان کی زیر کفالت تھے خواہ وہ حاضر ہوں یا غائب ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10671
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10671، ترقيم محمد عوامة 10480)
حدیث نمبر: 10672
١٠٦٧٢ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب عن يزيد بن عبد اللَّه بن قسيط (عن محمد بن) (١) عبد الرحمن وسعيد بن المسيب وعطاء بن يسار وأبي سلمة بن عبد الرحمن قالوا: من كان له عبد في زرع أو ضرع فعليه صدقة الفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبد الرحمن، حضرت سعید بن المسیب، حضرت عطاء بن یسار اور حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ : جس کے پاس غلام ہوں خواہ وہ کھیتی میں ہوں یا جانور کا دودھ نکال رہے ہوں (یعنی غائب ہوں) اس پر بھی صدقۃ الفطر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10672
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10672، ترقيم محمد عوامة 10481)
حدیث نمبر: 10673
١٠٦٧٣ - [وروي عن أبي (١) إسحاق قال: حدثني نافع أن عبد اللَّه بن عمر كان يخرج صدقة الفطر عن أهل بيته كلهم: حرهم وعبدهم، صغيرهم وكبيرهم (٢) مسلمهم وكافرهم من الرقيق] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے تمام گھر والوں کی جانب سے صدقۃ الفطر ادا فرمایا کرتے تھے۔ آزاد ہوں یا غلام، چھوٹے ہوں یا بڑے، مسلمان ہوں یا کافر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10673
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10673، ترقيم محمد عوامة 10482)
حدیث نمبر: 10674
١٠٦٧٤ - حدثنا (محمد بن بكر) (١) عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه أنه ⦗٢٩٧⦘ كان يعطي عن (عمال) (٢) أرضه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی زمین میں کام کرنے والے غلاموں کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10674
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10674، ترقيم محمد عوامة 10483)
حدیث نمبر: 10675
١٠٦٧٥ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: هل على غلام ماشية أو حرث زكاة؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضر ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت فرمایا کہ وہ غلام جو مویشیوں کے پاس ہوں اور وہ غلام جو کھیتی میں ہوں کیا ان کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10675
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10675، ترقيم محمد عوامة 10484)
حدیث نمبر: 10676
١٠٦٧٦ - حدثنا حفص عن عاصم عن أبي العالية والشعبي وابن سيرين قالوا: هي على (الشاهد) (١) والغائب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ، حضرت امام شعبی اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ : صدقۃ الفطر ہر حاضر اور غائب کی جانب سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10676
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10676، ترقيم محمد عوامة 10485)
حدیث نمبر: 10677
١٠٦٧٧ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني أمية بن أبي عثمان (عن أمية بن عبد اللَّه) (١) أن نافع بن علقمة كتب إلى عبد الملك بن مروان يسأله عن (العبد في) (٢) الحائط والماشية عليه زكاة يوم الفطر؟ قال: لا، من أجل أن الحائط والماشية الذي هو فيها (إنما) (٣) (صدقت) (٤) به، فليس عليه زكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امیہ بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نافع بن علقمہ نے عبد الملک بن مروان کو لکھا کہ کیا جو غلام باغ میں (کام کرتا ہو) اور جو غلام مویشوں کے ساتھ ہو اس پر بھی صدقۃ الفطر ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ کیونکہ وہ غلام جو باغ میں ہو یا مویشوں کے ساتھ ہو تو نے ان کی زکوٰۃ تو ادا کر ہی دی ہے اس لیے اس پر صدقۃ الفطر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10677
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10677، ترقيم محمد عوامة 10486)