کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اپنے نصرانی غلام کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کرے گا
١٠٦٦٥ - حدثنا أبو بكر [قال: (حدثنا) (١) إسماعيل] (٢) بن عياش عن عمرو بن مهاجر عن عمر بن عبد العزيز قال: سمعته يقول: يؤدي الرجل المسلم عن مملوكه النصراني صدقة الفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز ارشاد فرماتے ہیں کہ مسلمان شخص اپنے نصرانی غلام کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کرے گا۔
١٠٦٦٦ - حدثنا عبد اللَّه بن داود عن الأوزاعي قال: بلغني عن ابن عمر أنه كان يعطي (عن) (١) مملوكه النصراني صدقة الفطر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے نصرانی غلام کی طرف سے بھی صدقۃ الفطر ادا فرمایا کرتے تھے۔
١٠٦٦٧ - حدثنا وكيع عن ثور عن سليمان بن موسى قال: كتب إلى عطاء يسأله عن عبيد يهود ونصارى أطعم عنهم زكاة الفطر؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بن موسیٰ سے مروی ہے کہ حضرت عطاء سے یہودی اور عیسائی غلاموں کے متعلق دریافت کیا گیا کہ کیا ان کی جانب سے صدقۃ الفطر ادا کیا جائے گا ؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ ” جی ہاں “۔
١٠٦٦٨ - حدثنا ابن عياش (عن عبيدة) (١) عن إبراهيم قال: مثل قول عمر بن عبد العزيز.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے بھی حضرت عمر بن عبد العزیز کے قول کے مثل منقول ہے۔
١٠٦٦٩ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن (جريج قال) (١): قال عطاء: إذا كان لك (عبيدٌ) (٢) نصارى لا يدارون (يعني: التجارة) (٣)، فزك عنهم يوم الفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب آپ کے کچھ نصرانی غلام جو تجارت کیلئے نہ ہوں تو ان کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کرو۔