١٠٣٠٩ - حدثنا أبو معاوية عن ليث [عن (١) مجاهد عن (عمر) (٢) قال: (ليس) (٣) في الخضراوات زكاة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ : سبزیوں پہ زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٣١٠ - حدثنا وكيع عن قيس عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي] (١) قال: ليس في الخضر شيء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ : سبزیوں پہ کچھ نہیں ہے۔
١٠٣١١ - حدثنا (يحيى) (١) بن سعيد عن (مجالد) (٢) عن الشعبي قال: ليس في البقول الخيار و (القثاء) (٣) ونحوه صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی ارشاد فرماتے ہیں کہ : سبزیوں میں، اور اس طرح کھیرا اور ککڑی پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٣١٢ - حدثنا حفص عن (الأجلح) (١) عن عامر قال: ليس في (غلة) (٢) ⦗٢١٢⦘ (الصيف) (٣) صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر ارشاد فرماتے ہیں کہ گرمیوں کے غلہ پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٣١٣ - حدثنا حاتم بن وردان عن برد عن مكحول قال: ليس في الخضر زكاة إلا أن يصير مالًا فيكون فيه زكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول ارشاد فرماتے ہیں کہ : سبزیوں پر زکوٰۃ نہیں ہے، ہاں البتہ جب وہ مال بن جائے تو اس پر زکوٰۃ ہے۔
١٠٣١٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة قال: سمعت مجاهدًا وإبراهيم (جالس) (١) (يقول) (٢): ليس في البقول ولا في التفاح ولا في الخضر زكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ ارشاد فرما سے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے سنا اس وقت ابراہیم تشریف فرما تھے، وہ فرماتے ہیں کہ : ترکاری پر، پھل پر اور سبزیوں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٣١٥ - حدثنا سهل بن يوسف عن شعبة عن الحكم قال: (ليس) (١) في (٢) (الخضرات) (٣) صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم ارشاد فرماتے ہیں کہ : سبزیوں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٣١٦ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن (عن حصين) (١) عن مطرف قال: سألت الحكم عن (الفصافص) (٢) و (الأقطان) (٣) والسماسم فقال: ليس فيها شيء، قال الحكم فيما حفظنا عن أصحابنا أنهم كانوا يقولون: (وليس) (٤) في شيء [من هذا (شيء) (٥)] (٦) إلا في الحنطة والشعير والتمر والزبيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت حکم سے گھاس، دالوں اور تل سے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا ان میں کچھ نہیں ہے۔ حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جو ہم نے اپنے اصحاب سے یاد کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ان میں کچھ نہیں ہے سوائے گندم، جو، کھجور اور کشمش کے (ان پر زکوٰۃ ہے) ۔
١٠٣١٧ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عطاء الخراساني قال: ليس في الفاكهة عشور: الجوز واللوز (والبقول) (١) كلها والخضر، ولكن ما (بيع) (٢) (منه) (٣) فيبلغ مائتي درهم فصاعدًا ففيه الزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء خراسانی ارشاد فرماتے ہیں کہ پھلوں پر عشر نہیں ہے، اخروٹ، بادام، ترکاری اور سبزیوں پر بھی، ہاں اگر ان کو فروخت کیا جائے اور ان کی قیمت دو سو درھم یا اس سے زائد ہوجائے تو پھر اس پر زکوٰۃ ہے۔
١٠٣١٨ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن (جريج) (١) قال: قال عطاء: ليس في البقول (والقصب) (٢) و (الخربز) (٣) والقثاء والكرسف والفواكه (و) (٤) الأترج (٥) والتفاح والتين و (الرمان) (٦) و (الفرسك) (٧) والفاكهة -يعد كلها- (٨) صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ترکاری، بانس، خربوزہ، ککڑی، روئی اور پھلوں پر کچھ نہیں ہے۔ مالٹا، سیب، زیتون، انار اور آڑو، اور پھلوں کو شمار کیا جائے گا سب میں زکوٰۃ ہے۔
١٠٣١٩ - حدثنا عبد الصمد عن حماد بن سلمة عن علي بن الحكم عن أبي (العلاء) (١) بن (الشخير) (٢) قال: ليس في (الأعلاف) (٣) (ولا) (٤) في (البقول) (٥) صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العلاء بن شخیر فرماتے ہیں کہ گھاس اور ترکاری پر زکوٰۃ نہیں ہے۔