کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بھیڑ کا بچہ کیا بکریوں کے مالک پر حساب کیا جائیگا؟
حدیث نمبر: 10250
١٠٢٥٠ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
یونس اور حسن ارشاد فرماتے ہیں کہ بھیڑ کے بچہ کو نہیں گنا جائے گا اور اسکو زکوٰۃ میں وصول نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10250
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10250، ترقيم محمد عوامة 10076)
حدیث نمبر: 10251
١٠٢٥١ - وعن يونس عن الحسن (قالا) (١) (٢): يعتد بالسخلة ولا (تؤخذ) (٣) في الصدقة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10251
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10251، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 10252
١٠٢٥٢ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن (جريج) (٢) عن عطاء قال: قلت له (أيعتد) (٣) بالصغار أولاد الشاة؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا بکری کے چھوٹے بچوں کو (بھی زکوٰۃ وصول کرتے وقت) شمار کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10252
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10252، ترقيم محمد عوامة 10077)
حدیث نمبر: 10253
١٠٢٥٣ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: (يعتد) (١) بالصغير (حين) (٢) ما (تنتجه) (٣) (أمه) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ شمار کیا جائے گا بکری کے چھوٹے بچوں کو جس وقت اس کی ماں نے اس کو جنم (پیدا) دیا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10253
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10253، ترقيم محمد عوامة 10078)
حدیث نمبر: 10254
١٠٢٥٤ - حدثنا ابن عيينة عن بشر (بن) (١) عاصم (بن سفيان) (٢) عن أبيه (أن) (٣) عمر استعمل أباه على الطائف و (مخاليفها) (٤)، (وكان) (٥) يصدق (فاعتد) (٦) ⦗١٩٩⦘ عليهم بالغذاء، فقال له الناس: إن كنت (معتدًا) (٧) بالغذاء (فخذ) (٨) (منه) (٩)، فأمسك (عنهم) (١٠) حتى لقي عمر فأخبره بالذي قالوا، فقال: (اعتد) (١١) (عليهم) (١٢) (بالغذاء) (١٣) وإن جاء بها الراعي يحملها على يده، وأخبرهم أنك تدع لهم (الربى) (١٤) و (الماخض) (١٥) والأكيلة و (فحل) (١٦) الغنم و (خذ) (١٧) العناق: الجذعة والثنية، فذلك عدل بين خيار (المال) (١٨) والغذاء (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشر بن عاصم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے میرے والد کو طائف کے علاقوں میں زکوٰۃ وصول کرنے کا فریضہ سونپا، (میرے والد نے) انکی بکریوں کو چھوٹے بچوں کو ملا کر شمار کیا، لوگوں نے میرے والد سے کہا : اگر آپ زکوٰۃ وصول کرتے وقت اس چھوٹے بچے کو بھی شمار کر رہے ہیں تو پھر زکوٰۃ میں بھی اسی چھوٹے کو وصول کرلو۔ وہ رک گئے ان سے یہاں تک کہ ان کی حضرت عمر سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے حضرت عمر کے سامنے سارا ماجرا بیان کیا، آپ نے فرمایا : انکی بکریوں کو شمار کرتے وقت چھوٹے بچوں کو بھی ساتھ شمار کرو اگرچہ (وہ اتنا چھوٹا ہو کہ) چرواہا اس کو اپنے ہاتھوں پہ اٹھا کر لائے، اور ان کو بتادو کہ بیشک تمہارے لئے چھوٹا دودھ پیتا بچہ، حاملہ بکری، وہ بکری جس کو ذبح کرنے کی غرض موٹا اور فربہ کیا ہو اور سانڈ (نر) جانور چھوڑ دیا گیا ہے (یعنی زکوٰۃ لیتے وقت ان کا شمار نہیں ہوگا) ہاں البتہ لیا جائے گا وہ بچہ جس پر ابھی سال مکمل نہ گذرا ہو اور اسی طرح بکری کا آٹھ ماہ کا بچہ اور وہ بکری جس کے سامنے والے چار دانتوں میں سے دو ظاہر ہوگئے ہوں۔ اس طرح کرنے سے بہترین مال اور چھوٹے مال کے درمیان انصاف اور مساوات ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10254
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عاصم صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10254، ترقيم محمد عوامة 10079)
حدیث نمبر: 10255
١٠٢٥٥ - حدثنا أبو أسامة عن النهاس بن (قهم) (١) قال: حدثنا الحسن بن مسلم (قال) (٢): بعث رسول اللَّه ﷺ سفيان بن عبد اللَّه على الصدقة فقال: "خذ ما بين الغذية و (الهرمة) (٣) "، يعني بالغذية السخلة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن مسلم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سفیان بن عبد اللہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا تو ان کو فرمایا : بہت چھوٹے جانور اور بوڑھے جانور کے درمیان (جو درمیانے عمر والا) جانور ہو اسکو وصول کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10255
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ النهاس ضعيف، والصواب وقفه على عمر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10255، ترقيم محمد عوامة 10080)