١٠٢٥٦ - حدثنا ابن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة عن رجل من ثقيف قال: سألت أبا هريرة في (أي) (١) المال صدقة؟ (فقال) (٢): في الثلث الأوسط فإذا أتاك المصدق فأخرج له الجذعة والثنية (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن میسرہ فرماتے ہیں کہ بنو ثقیف کے ایک شخص نے حضرت ابوہریرہ سے سوال کیا کہ کونسے مال پر زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ درمیانے مال کے تہائی میں، جب تمہارے پاس زکوٰۃ وصول کرنے والا آئے تو اسکے لئے جذعہ اور ثنیہ جانور نکال دو ۔
١٠٢٥٧ - حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن سماك عن ابن شهاب (أو شهاب) (١) بن (عبد اللَّه) (٢) عن (سعد) (٣) الأعرج قال: خرجت أريد الجهاد، فلقيت عمر بمكة، فقال: (بإذن) (٤) صاحبك (٥) (يعني يعلى بن أمية قال: قلت: لا. قال: فارجع إلى صاحبك) (٦) فإذا (٧) أوقف الرجل عليكم غنمه، فاصدعوها صدعين، ثم اختاروا من النصف الآخر (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید اعرج فرماتے ہیں کہ میں جہاد کیلئے نکلا تو مکہ میں میری حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی، حضرت عمر نے پوچھا کہ تم یعلی رضی اللہ عنہ بن امیہ کی اجازت سے نکلے ہو ؟ میں نے عرض کی کہ نہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے ساتھی کے پاس واپس جاؤ جب آدمی تمہارے پاس بکریوں کی زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے ٹھہرے تو تم اس کو دو حصوں میں تقسیم کردو، پھر نصف آخر (ادنی حصہ) کو اختیار کریں۔
١٠٢٥٨ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن (جريج) (١) قال: سمعت أبي وغيره يذكرون أن عمر بن عبد العزيز كتب أن (تقسم) (٢) (الغنم) (٣) أثلاثًا، (ثم يختار سيدها) (٤) (ثلثًا) (٥)، ويأخذ المصدق من الثلث الأوسط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد اور دوسرے حضرات سے سنا وہ ذکر کرتے تھے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے لکھا کہ تم بکریوں کو تین حصوں میں تقسیم کرو۔ پھر مالک ایک تہائی کو اختیار کرے اور زکوٰۃ وصول کرنے والا درمیانے تہائی میں سے وصول کرے۔
١٠٢٥٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبيد اللَّه عن (القاسم) (١) قال: (تقسم) (٢) الغنم أثلاثًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ تم بکریوں کو تین حصوں میں تقسیم کرو۔
١٠٢٦٠ - حدثنا عباد بن عوام عن سفيان بن حسين عن الزهري قال: إذا جاء المصدق قسمت الغنم أثلاثًا: ثلث خيار (وثلث شرار) (١) وثلث أوساط (٢) ويأخذ المصدق من الوسط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام زہری ارشاد فرماتے ہیں کہ جب زکوٰۃ وصول کرنے والا آئے تو بکریوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، ثلث خیار، ثلث شرار اور ثلث اوساط میں، زکوٰۃ وصول کرنے والا درمیانی تہائی میں سے وصول کرے گا۔
١٠٢٦١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأعمش عن الحكم قال: كان المصدق يصدع الغنم صدعين، فيختار صاحب الغنم خير الصدعين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم ارشاد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا بکریوں کو دو حصوں میں بانٹ لے گا اور بکریوں کا مالک بہتر والے حصے کو اختیار کرے گا۔ (دوسرے حصے کو زکوٰۃ وصول کرنے والا لے گا)
١٠٢٦٢ - [حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن سالم عن الشعبي قال: يقسم الغنم قسمين، فيختار صاحب الغنم (خير) (١) (القسمين) (٢) (ويختار المصدق ⦗٢٠٢⦘ من القسم الآخر) (٣)] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی ارشاد فرماتے ہیں کہ بکریوں کو دو حصوں میں تقسیم کرلیں گے، بکریوں کا مالک بہتر والے حصے کو لے لے گا اور دوسرے حصے کو زکوٰۃ وصول کرنے والا لے گا۔
١٠٢٦٣ - حدثنا عبد الرحيم عن عبيدة عن إبراهيم قال: يجمع (الشاء) (١) فيأخذ صاحب الغنم الثلث من خياره ويأخذ صاحب الصدقة من الثلثين حقه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ارشاد فرماتے ہیں کہ بکریوں کو جمع کیا جائے گا اور بکریوں کا مالک بہتر بکریوں والی تہائی کو اپنے پاس رکھے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والا باقی دو تہائیوں میں سے اپنا حصہ (حق) وصول کرے گا۔
١٠٢٦٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن عطاء قال: تفرق فرقتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ (بکریوں کو) دو حصوں مںَ تقسیم کیا جائے گا۔
١٠٢٦٥ - حدثنا عباد بن (عوام) (١) عن ليث عن عطاء نحوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے اسی طرح کا ایک اور قول منقول ہے۔