٩٦٩٠ - حدثنا ابن عيينة عن أبي الزناد عن (الأعرج) (١) عن أبي هريرة (أنه) (٢) قال: إذا دعي (أحدكم) (٣) إلى طعام وهو صائم فليقل: (إني) (٤) صائم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ کہے کہ میں روزے سے ہوں۔
٩٦٩١ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق قال: دخلت على قيس بن أبي حازم فدعا لي بشراب فقال: اشرب، فقلت لا أريد، قال: (أ) (١) صائم أنت؟ قلت: نعم، قال: فإني سمعت عبد اللَّه يقول: إذا عرض على أحدكم طعام أو شراب وهو صائم فليقل: إني صائم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت قیس بن حازم کے پاس آیا، انہوں نے میرے لئے کوئی پینے کی چیز منگوائی اور مجھ سے فرمایا کہ اسے پیو، میں نے کہا کہ میں نہیں پینا چاہتا۔ انہوں نے پوچھا کیا تمہارا روزہ ہے ؟ میں نے کہا ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی روزہ دار کو کھانے یا پینے کی دعوت دی جائے تو وہ کہے کہ میں روزے سے ہوں۔
٩٦٩٢ - حدثنا وكيع ويزيد عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قال: إذا (سئل) (١) أحدكم وهو صائم فليقل: إني صائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ کہے کہ میں روزے سے ہوں۔
٩٦٩٣ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد قال: كان ابن عمر إذا دعي إلى طعام وهو صائم أجاب، فإذا جاؤوا بالمائدة وعليها الطعام مد يده ثم قال: خذوا بسم اللَّه فإذا أهوى القوم كف يده (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو روزے کی حالت میں کھانے کی دعوت دی جاتی تو دعوت قبول فرماتے ، جب دستر خوان بچھ جاتا اور اس پر کھانا ہوتا تو اپنا ہاتھ کھانے کی طرف بڑھاتے اور فرماتے کہ اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرو۔ جب لوگ کھانا شروع کردیتے تو وہ ہاتھ کھینچ لیتے۔
٩٦٩٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي إسحاق عن قيس بن أبي حازم عن عبد اللَّه قال: إذا عرض على أحدكم طعام أو شراب وهو صائم فليقل: إني صائم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ کہے کہ میں روزے سے ہوں۔
٩٦٩٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت قال: أتي أنس بطعام فقال لي: ادن، فقلت: لا أطعم، فقال: لا تقل لا أطعم، قل: إني صائم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت انس کے پاس کھانا لایا گیا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ قریب آجاؤ۔ میں نے کہا کہ میں نہیں کھاؤں گا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ میں نہیں کھاؤں گا بلکہ یہ کہو کہ میرا روزہ ہے۔
٩٦٩٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن أبي المهزم قال: قال أبو هريرة: إذا سئل أحدكم: أصائم أنت؟ فليقل: إني (صائم، فأما) (١) المؤمن فيدعو له بخير، وأما المنافق فيقول: (مراءٍ) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی سے سوال کیا جائے کہ تمہارا روزہ ہے تو تم جواب میں کہو کہ میرا روزہ ہے۔ مومن اس کے لئے خیر کی دعا کرے گا اور منافق اسے ریاکار کہے گا۔
٩٦٩٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا عمر (ان) (١) بن (حدير) (٢) عن أبى مجلز قال: دخلت عليه وهو يأكل فقال: ادن فكل، قال: قلت: إني صائم، قال: فلعلك ممن يزعم أنه صائم وليس بصائم، قلت: سبحان اللَّه، قال: قد كان من هو ⦗٤١⦘ خير منك يصوم ثلاثة (أيام) (٣) من كل شهر ثم يقول إني صائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ میں ابو مجلز کے پاس حاضر ہوا اور وہ کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ قریب آؤ اور کھانا کھاؤ۔ میں نے کہا کہ میرا روزہ ہے۔ حضرت ابومجلز نے فرمایا کہ شاید آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کا روزہ نہیں ہوتا لیکن وہ یہ خاسل کرتے ہیں کہ ان کا روزہ ہے ! میں نے کہا کہ اللہ پاک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ذات تم سے بہتر تھی وہ ہر مہینے تین روزے رکھا کرتے تھے پھر فرماتے تھے کہ میرا روزہ ہے۔