٩٦٨٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة والأسود عن ⦗٣٧⦘ عائشة قالت: كان النبي ﷺ يباشر وهو صائم ولكنه كان أملككم لإربه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے ساتھ معانقہ کیا کرتے تھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے جذبات پر تم سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔
٩٦٨١ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن سالم (الدوسي) (١) قال: قال رجل لسعد: يا أبا إسحاق أتباشر وأنت صائم؟ قال: نعم وآخذ بجهازها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم اوسی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد سے سوال کیا کہ اے ابو اسحاق ! کیا آپ روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے معانقہ کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں اور میں اس کی حیاء کی جگہ کو بھی ہاتھ لگاتا ہوں۔
٩٦٨٢ - حدثنا علي بن (مسهر) (١) ووكيع عن زكريا عن الشعبي عن أبي ميسرة عن (ابن) (٢) مسعود قال: كان يباشر امرأته بنصف النهار وهو صائم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود روزہ کی حالت میں نصفِ نہا ر کے وقت اپنی بیوی سے معانقہ کیا کرتے تھے۔
٩٦٨٣ - حدثنا حفص عن داود عن عكرمة عن ابن عباس قال: أعرابي أتاه فسأله فرخص له في القبلة والمباشرة ووضع اليد، ما لم (تعده) (١) إلى غيره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روزے کی حالت میں بیوی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے بوسے، معانقہ اور ہاتھ سے چھونے کی اجازت دے دی۔ بشرطیکہ اس سے آگے نہ بڑھے۔
٩٦٨٤ - حدثنا وكيع عن أبي مكين عن عكرمة عن ابن عباس قال: لا بأس للشيخ أن يباشر يعني وهو صائم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بوڑھے کے لئے روزے کی حالت میں بیوی سے معانقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٩٦٨٥ - حدثنا عباد (بن) (١) العوام عن الشيباني قال: سألت عكرمة والشعي عن المباشرة فرخصا فيها وسألت ابن (معقل) (٢) فكرهها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ اور حضرت شعبی سے روزے کی حالت میں بیوی سے معانقہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس کی رخصت دی۔ حضرت ابن مغفل سے سوال کیا تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔
٩٦٨٦ - حدثنا (عبدة) (١) بن سليمان عن (مجالد) (٢) عن وبرة قال: جاء رجل إلى ابن عمر (فقال) (٣): أباشر امرأتي وأنا صائم؟ فقال: لا. ثم جاءه آخر فقال: أباشر امرأتي وأنا صائم؟ قال: نعم. فقيل له: يا أبا عبد الرحمن قلت: لهذا نعم وقلت لهذا: لا؟ فقال: إن هذا شيخ وهذا شاب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ کیا میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے معانقہ وغیرہ کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ ایک دوسر ا آدمی آیا اور اس نے بھی یہی سوال کیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہاں کرسکتے ہو۔ لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے ایک آدمی کو اجازت دی اور ایک کو منع کیا اس کی کیا وجہ ہے ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک جوان اور دوسرا بوڑھا تھا۔
٩٦٨٧ - حدثنا حفص عن عبد الملك عن عطاء قال: قيل لابن عباس: المباشرة قال: أَعفُّوا صومكم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روزے کی حالت میں معانقہ وغیرہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اپنے روزے کو پاکیزہ رکھو۔
٩٦٨٨ - حدثنا ابن نمير عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر أنه كان يكره القبلة والمباشرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روزے کی حالت میں بوسے اور معانقہ وغیرہ کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
٩٦٨٩ - حدثنا ابن فضيل عن (عمر) (١) بن ذر قال: أخبرنا حنظلة بن (سبرة) (٢) ابن المسيب (بن) (٣) (نجبة) (٤) الفزاري عن عمته (جمانة) (٥) (بنت) (٦) ⦗٣٩⦘ المسيب وكانت عند حذيفة بن اليمان فكان إذا صلى الفجر في رمضان دخل معها في لحافها فيوليها ظهره يستدفئ بقربها ولا يُقبل (عليها) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جمانہ بنت مسیب جو کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں فرماتی ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ رمضان میں فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد ایک لحاف میں ان کے ساتھ لیٹتے اور ان کی طرف کمر کردیتے۔ تاکہ ان سے گرمی حاصل کرسکیں اور ان کی طرف رخ نہ کرتے تھے۔