حدیث نمبر: 9434
٩٤٣٤ - حدثنا حفص عن حجاج عن أبي إسحاق عن الحارث عن عليّ قال: إذا (ذرعه) (١) القيء فليس عليه القضاء وإذا استقاء فعليه القضاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر روزے کی حالت میں کسی کو قے آگئی تو اس پر قضاء نہیں ہے اور اگر کسی نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر قضا لازم ہے۔
حدیث نمبر: 9435
٩٤٣٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر أنه كان يقول: من ذرعه القيء وهو صائم فلا يفطر ومن تقيأ فقد أفطر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ اگر روزہ دار کو قے خود بخود آگئی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور اگر اس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 9436
٩٤٣٦ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عبد اللَّه بن سعيد عن جده عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا استقاء الصائم أعاد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر روزہ دار نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 9437
٩٤٣٧ - حدثنا أزهر السمان عن ابن عون عن الحسن وابن سيرين قالا: إذا (ذرع) (١) الصائم القيء (لم) (٢) يفطر (وإذا) (٣) تقيأ أفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار کو قے خود بخود آگئی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور اگر اس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 9438
٩٤٣٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن عبد اللك عن عطاء في الصائم يقيء قال: إن كان استقاء فعليه أن يقضي وإن كان ذرعه فليس عليه أن يقضي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار نے خود قے کی تو اس روزے کی قضاء کرے گا اور اگر خود بخود قے آگئی توقضا نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 9439
٩٤٣٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن مغيرة عن إبراهيم قال. إذا ذرعه القيء فلا إعادة عليه وإن تهوع فعليه الإعادة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار کو خود بخود قے آگئی تو اس پر اعادہ لازم نہیں، اگر اس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر اعادہ لازم ہے۔
حدیث نمبر: 9440
٩٤٤٠ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن حماد بن سلمة عن (حيان) (١) السلمي عن القاسم بن محمد قال: الصائم إذا ذرعه القيء فليس عليه (القضاء) (٢) (فإن) (٣) قاء متعمدا فعليه الاقضاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار کو خود بخود قے آگئی تو اس پر قضا لازم نہیں، اگر اس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر قضا لازم ہے۔
حدیث نمبر: 9441
٩٤٤١ - حدثنا محمد بن (عبيد) (١) عن يعقوب بن قيس قال: سألت سعيد بن جبير عن الرجل يسبقه القيء وهو صائم أيقضي ذلك اليوم؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعقوب بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی کو روزے کی حالت میں قے آگئی تو کیا وہ اس روزے کی قضا کرے گا ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔
حدیث نمبر: 9442
٩٤٤٢ - حدثنا أسباط بن محمد عن مطرف عن عامر قال: إذا تقيأ متعمدًا (فقد) (١) أفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جس نے جان بوجھ کر قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 9443
٩٤٤٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن إسرائيل عن جابر (عن) (١) طلحة عن الضحاك عن ابن عباس قال: إذا تقيأ الصائم فقد أفطر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 9444
٩٤٤٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: إذا تقيأ وهو صائم فعليه القضاء وإن ذرعه القيء فليس عليه القضاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ اگر روزے کی حالت میں کسی آدمی نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر قضا لازم ہے اور اگر خود بخود قے آگئی تو قضاء لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 9445
٩٤٤٥ - حدثنا عبد الرحيم عن إسماعيل عن أبي إسحاق عن الحارث عن عليّ قال: إذا تقيّأ الصائم متعمدًا أفطر وإذا ذرعه القيء فلا شيء عليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر روزے کی حالت میں کسی آدمی نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر قضا لازم ہے اور اگر خود بخود قے آگئی تو قضاء لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 9446
٩٤٤٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن ليث عن مجاهد مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 9447
٩٤٤٧ - حدثنا شبابة بن سوار عن شعبة عن أبي (الجودي) (١) عن (بلج) (٢) المهري عن أبي شيبة المهري قال: قيل (لثوبان) (٣) حدثنا عن رسول اللَّه ﷺ، قال رأيت رسول اللَّه ﷺ قاء فأفطر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو شیبہ مہری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت ثوبان سے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیے۔ انہوں نے بتایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے قے کرنے کے بعد روزہ توڑ دیا تھا۔
حدیث نمبر: 9448
٩٤٤٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن (يعيش) (١) بن الوليد (بن) (٢) هشام (أن) (٣) معدان أخبره أن أبا الدرداء أخبره أن النبي ﷺ قاء فأفطر، قال: فلقيت ثوبان فقال: أنا صببت لرسول اللَّه ﷺ وضوءه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معدان کہتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے بیان کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے آنے پر روزہ توڑ دیا تھا۔ معدان کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت ثوبان سے میری ملاقات ہوئی اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کا پانی دیا تھا۔
حدیث نمبر: 9449
٩٤٤٩ - [حدثنا هشيم عن حصين عن عكرمة قال: الإفطار مما دخل وليس مما خرج] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ روزہ کسی چیز کے اندر جانے سے ٹوٹتا ہے باہر آنے سے نہیں ٹوٹتا۔
حدیث نمبر: 9450
٩٤٥٠ - حدثنا ابن فضيل عن مطرف قال: سئل عامر عن الصائم يقيء قال: إذا فجأه القيء فلا (يقضي) (١) وإن كان تقيأ عمدًا فقد أفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے روزہ دار کی قے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر اسے خود بخود قے آگئی تو اس کی قضا نہ کرے گا اور اگر جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔