حدیث نمبر: 9396
٩٣٩٦ - حدثنا شريك عن عاصم عن عبد اللَّه بن عامر بن ربيعة عن أبيه قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ يستاك وهو صائم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزہ کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 9397
٩٣٩٧ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر (أنه لم) (١) يكق يرى بأسًا بالسواك للصائم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روزہ دار کے لئے مسواک کو مکروہ قرار نہ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 9398
٩٣٩٨ - حدثنا وكيع عن مسعر وسفيان عن أبي نهيك عن زياد بن (حدير) (١) [قال: ما رأيت أحدًا أدوم سواكًا وهو صائم من عمر بن الخطاب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیادہ بن حدیر فرماتے ہیں کہ میں نے روزے کی حالت میں حضرت عمر سے زیادہ کسی کو مسواک کی پابندی کرتے نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 9399
٩٣٩٩ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن أبي نهيك عن زياد بن حدير] (٢) عن عمر (﵁) (٣) (عنه) (٤) بنحوه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 9400
٩٤٠٠ - حدثنا وكيع عن شداد (١) أبي طلحة عن امرأة منهم يقال لها (كبشة) (٢) قالت: جئت إلى عائشة فسألت عن السواك للصائم قالت: هذا سواكي في يدي وأنا صائمة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کبشہ کہتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور میں نے ان سے روزہ دار کے لئے مسواک کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ میں روزہ دار ہوں اور یہ میرے ہاتھ میں مسواک ہے۔
حدیث نمبر: 9401
٩٤٠١ - حدثنا الفضل بن دكين عن عبد (الجليل) (١) قال: حدثني شهر بن ⦗٥٣٠⦘ حوشب قال: سئل ابن عباس عن السواك للصائم فقال: نعم الطهور، استك على كل حال (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روزے کی حالت میں مسواک کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا مسواک پاکیزگی کا بہترین ذریعہ ہے، ہر حال میں مسواک کرو۔
حدیث نمبر: 9402
٩٤٠٢ - [حدثنا ابن مبارك عن هشام عن أبيه أنه كان يستاك مرتين غدوة وعشية وهو صائم] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ روزے کی حالت میں دو مرتبہ صبح اور شام کو مسواک کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 9403
٩٤٠٣ - حدثنا ابن فضيل عن (خصيف) (١) عن عطاء قال: استك أول النهار ولا تستك آخره إذا كنت صائمًا. قلت: لم (لم) (٢) أستك في آخر النهار؟ قال: إن خلوف فم الصائم أطيب عند اللَّه من ريح المسك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خصیف فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے فرمایا کہ جب تمہارا روزہ ہو تو دن کے ابتدائی حصہ میں مسواک کرو، دن کے آخری حصہ میں مسواک نہ کرو۔ میں نے کہا کہ دن کے آخری حصہ میں مسواک کیوں نہ کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 9404
٩٤٠٤ - حدثنا أزهر عن ابن عون قال: كان محمد يستاك من أول النهار (ويكرهه) (١) من آخره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد روزہ کی حالت میں دن کے شروع میں مسواک کرتے تھے لیکن دن کے آخر میں اسے مکروہ قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 9405
٩٤٠٥ - حدثنا حفص عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر أنه كان يستاك إذا أراد أن (يروح) (٢) إلى الظهر وهو صائم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روزے کی حالت میں ظہر کے لئے جانے سے پہلے مسواک کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 9406
٩٤٠٦ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس بالسواك للصائم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ روزہ دار کے لئے مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 9407
٩٤٠٧ - [حدثنا غندر عن شعبة عن حصين عن سالم أنه كان لا يرى بأسًا بالسواك للصائم] (١) إلا عند اصفرار الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم عصر کے بعد سورج کے زرد پڑجانے سے پہلے روزہ دار کے لئے مسواک کو مکروہ قرار نہ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 9408
٩٤٠٨ - حدثنا ابن علية عن ليث عن مجاهد أنه كره السواك للصائم بعد (الظهر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد نے ظہر کے بعد روزہ دار کے لئے مسواک کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 9409
٩٤٠٩ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: يستاك الصائم (١) أي النهار شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ روزہ دار جب چاہے مسواک کرلے۔
حدیث نمبر: 9410
٩٤١٠ - حدثنا وكيع عن سعيد بن (بشير) (١) عن قتادة عن أبي هريرة أنه سئل عن السواك للصائم فقال: (أدميت) (٢) (فمي اليوم) (٣) مرتين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روزہ دار کے مسواک کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ میں دن میں دو مرتبہ مسواک سے اپنے منہ کا خون نکالتا ہوں۔
حدیث نمبر: 9411
٩٤١١ - حدثنا (ابن أبي غنية) (١) عن أبيه عن الحكم أنه كان لا يرى بأسًا بالسواك للصائم من أول النهار، وقال: إنما كره له آخر النهار بعد ما (تخلف) (٢) فوه يستحب أن يرجع في جوفه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم کے نزدیک روزہ دار کے لئے دن کے ابتدائی حصہ میں مسواک کرنا جائز ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ دن کے آخری حصہ میں مسواک کرنا مکروہ ہے تاکہ معدے کے خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بو واپس چلی جائے۔
حدیث نمبر: 9412
٩٤١٢ - حدثنا (بشر) (١) بن المفضل عن علي بن زيد قال: سئل سعيد بن المسيب عن السواك للصائم فقال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب سے روزے میں مسواک کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔