٩٤١٣ - حدثنا أبو معاوية (و) (١) وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه أنه كان يستاك بالسواك الرطب وهو صائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ روزے کی حالت میں تازہ مسواک سے دانت صاف کیا کرتے تھے۔
٩٤١٤ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن ليث عن مجاهد قال: لا بأس بالسواك الرطب (وهو صائم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ روزے کی حالت میں تازہ مسواک سے دانت صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٩٤١٥ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن مجاهد قال: لا بأس بالسواك الرطب للصائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ روزے کی حالت میں تازہ مسواک سے دانت صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٩٤١٦ - [حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن أنه كان لا يرى (بأسًا) (١) بالسواك الرطب وهو صائم] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن روزہ دار کے لئے تازہ مسواک سے دانت صاف کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
٩٤١٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: لا بأس بالسواك الرطب للصائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ روز ہ دار کے لئے تازہ مسواک سے دانت صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٩٤١٨ - حدثنا عبيد بن سهل (الغداني) (١) عن عقبة (بن) (٢) أبي (حمزة) (٣) ⦗٥٣٣⦘ المازني قال: أتى ابن سيرين رجل فقال: ما ترى في السواك للصائم قال: لا بأس به، قال: إنه جريدة وله طعم، قال: (و) (٤) الماء له طعم وأنت تمضمض؟.
مولانا محمد اویس سرور
ایک آدمی حضرت ابن سیرین کے پاس آیا اور اس نے کہا آپ روزہ دار کے لئے مسواک کرنے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ سوال کرنے والے نے کہا کہ یہ ٹہنی ہوتی ہے اور اس کا ذائقہ ہوتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ پانی کا بھی تو ذائقہ ہوتا ہے اور تم کلی کرتے ہو۔
٩٤١٩ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن حماد بن سلمة (عن حماد) (٢) عن إبراهيم قال: لا بأس أن يستاك بالعود الرطب وهو صائم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ روزے کی حالت میں تازہ مسواک سے دانت صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٩٤٢٠ - حدثنا علي بن الحسن بن شقيق (أخبرنا) (١) (أبو) (٢) حمزة عن إبراهيم (الصائغ) (٣) عن نافع عن ابن عمر قال: لا بأس أن يستاك الصائم بالسواك الرطب واليابس (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ روزہ دار تازہ اور پرانی مسواک سے دانت صاف کرسکتا ہے۔