٨٢٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن أبي (حيان) (١) عن أبيه قال: ما سمعت الربيع بن خثيم يذكر شيئا من أمر الدنيا إلا أني سمعته مرة يقول: كم (للتيم) (٢) مسجدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حیان کے والد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ربیع بن خثیم کو کبھی کسی دنیاوی بات کا تذکرہ کرتے نہیں سناسوائے اس بات کے کہ انہوں نے ایک مرتبہ فرمایا کہ بنو تیم کی کتنی مسجدیں ہیں ؟
٨٢٨٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (عاصم) (١) قال: سمعت زر (ا) (٢) (و) (٣) أبا وائل يقولان: مسجد بني فلان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم کہتے ہیں کہ حضرت زر اور حضرت ابو وائل کہا کرتے تھے کہ بنو فلاں کی مسجد۔
٨٢٨٥ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يكره أن يقول: مسجد بني فلان ولا يرى بأسا أن يقول: مصلى بني فلان.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ یہ کہا جائے بنو فلاں کی مسجد البتہ بنو فلاں کی جائے نماز کہنے کو جائز قرار دیتے تھے۔
٨٢٨٦ - حدثنا وكيع عن محمد بن قيس عن محارب عن جابر أنه قال: فأتى مسجد معاذ (في حديث) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ یہ نہ کہو ” معاذ کی مسجد “