٨٢٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن محمد بن قيس عن علي بن مدرك عن إبراهيم عن الربيع بن (خثيم) (١) قال: أيعجز أحدكم أن يقرأ ثلث القرآن وهو راكع أو ساجد (للَّه الواحد) (٢) الصمد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم فرماتے ہیں کہ کیا تم میں سے کسی میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ رکوع یاسجدے میں یکتا اور صمد اللہ کے لئے ایک تہائی قرآن کی تلاوت کرے۔
٨٢٨٠ - حدثنا وكيع عن أبان بن (صمعة) (١) عن شيخ كان مع ابن الزبير فقرأ البقرة وهو راكع ثم رفع رأسه فقرأ آل عمران ثم سجد فقرأ النساء ثم رفع رأسه فقرأ المائدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابان بن صمعہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کے پاس موجود ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے حالت رکوع میں سورة البقرۃ کی تلاوت کی، پھر سر اٹھایا اور سورة آل عمران کی تلاوت کی، پھر سجدے میں گئے تو سورة النساء کی تلاوت کی، پھر سر اٹھایا تو سورۃ المائدہ کی تلاوت کی۔
٨٢٨١ - حدثنا عبيدة بن حميد (عن) (١) عبد الملك عن عطاء قال: كان عبيد بن عمير يقرأ في الركوع والسجود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر رکوع و سجود میں تلاوت کیا کرتے تھے۔
٨٢٨٢ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان لا يرى بأسا إذا عجل الرجل (فركع) (١) وبقي عليه من السورة آية أو آيتان أن يقرأهما وهو راكع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ جب آدمی کو رکوع کی جلدی ہو تو وہ کسی سورت کی باقی ماندہ ایک یا دو آیتیں رکوع میں پڑھ لے۔