٧٨٧٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم، قال: كان عبد اللَّه يكره العدد ويقول: أيمن على اللَّه حسناته (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ تسبیحات کے گننے کو مکروہ خیال فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ کیا وہ اللہ پر احسان کرنا چاہتا ہے ؟
٧٨٧٨ - حدثنا أزهر السمان عن ابن عون عن عقبة قال: قال سألت ابن (عمر) (١) عن الرجل يذكر اللَّه ويعقد، فقال: تحاسبون اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو ذکر کرے اور ذکر کو شمار کرے ۔ انہوں نے فرمایا کہ کیا یہ لوگ اللہ سے حساب کرنا چاہتے ہیں ؟
٧٨٧٩ - حدثنا ابن فضيل عن (وقاء) (١) عن سعيد بن جبير قال: رأى عمر بن ⦗١٥٣⦘ الخطاب (إنسانًا) (٢) يسبح بتسابيح معه فقال عمر: إنما يجزيه من (ذلك) (٣) أن يقول: سبحان اللَّه ملء السماوات والأرض وملء ما شاء من شيء بعد ويقول: الحمد للَّه ملء السماوات والأرض ملء ما شاء من شيء بعد، ولقول: اللَّه أكبر ملء السماوات والأرض وملء ما شاء من شيء بعد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک آدمی کو دیکھا جو تسبیح گننے کے اسباب لئے تسبیحات پڑھ رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کے لئے اتناکہنا ہی کافی ہے : اللہ کی پاکی ہے، زمین و آسمان کو بھر کر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو بھر کر۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، زمین و آسمان کو بھر کر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو بھر کر۔ اللہ کے لئے بڑائی ہے، زمین و آسمان کو بھر کر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو بھر کر۔
٧٨٨٠ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن إبراهيم (بن) (١) المهاجر عن إبراهيم أنه كان ينهى ابنته أن تعين النساء على فتل خيوط التسابيح التي يسبح بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہاجر فرماتے ہیں کہ ابراہیم اپنی بیٹی کو اس بات سے منع کرتے تھے کہ وہ تسبیح کے دھاگے بنانے میں عورتوں کی مدد کرے۔