حدیث نمبر: 7690
٧٦٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: حدثنا علي (بن مبارك) (١) عن يحيى ابن أبي كثير عن الحضرمي بن لاحق عن رجل من الأنصار قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا وجد أحدكم القملة في المسجد فليصرها في ثوبه حتى يخرجها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک انصاری سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی مسجد میں جوں دیکھے تو اسے اپنے کپڑے میں ڈال کر باہر نکال دے۔
حدیث نمبر: 7691
٧٦٩١ - حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه عن ابن عباس في الرجل يجد القملة (١) (وهو) (٢) في المسجد، قال: يدفنها في الحصباء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی مسجد میں جوں دیکھے تو کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے کنکریوں میں دفن کردے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو ظبیان کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 7692
٧٦٩٢ - قال: (ورأيت) (١) أبا ظبيان يفعل ذلك.
حدیث نمبر: 7693
٧٦٩٣ - حدثنا مروان بن معاوية عن مسلم الملائى عن (زاذان) (١) عن الربيع بن (خثيم) (٢) أن عبد اللَّه دفن قملة في المسجد، ثم قرأ: ﴿أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا (٢٥) ⦗١٠٧⦘ (أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا) (٣)﴾ [المرسلات: ٢٥ - ٢٦] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے جوں کو مسجد میں دفن کیا اور پھر یہ آیت پڑھی : کیا ہم نے زمین کو زندہ اور مردہ کے لئے کفایت کرنے والی نہیں بنایا۔
حدیث نمبر: 7694
٧٦٩٤ - حدثنا عباد بن عوام عن الشيباني عن المسيب بن رافع عن رجل، قال: رأيت أبا أمامة (يتفلى) (١) في [المسجد يدفنه فيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسیب بن رافع ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابو امامہ نے مسجد میں ایک جوں ماری اور اسے وہیں دفن کردیا۔
حدیث نمبر: 7695
٧٦٩٥ - حدثنا وكيع قال: (أخبرنا) (١) أبان بن عبد اللَّه البجلي عن أبي مسلم الثعلبي، قال: رأيت أبا أمامة يتفلى] (٢) في مسجده وهو يدفن القمل في (الحصى) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسلم ثعلبی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو امامہ کو دیکھا کہ وہ مسجد میں جوں کو پکڑ کر زمین میں دفن کررہے تھے۔
حدیث نمبر: 7696
٧٦٩٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو (خلدة) (١) قال: رأيت أبا العالية يدفن القمل في المسجد، وقرأ: ﴿أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو خلدہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابوالعالیہ نے جوں کو مسجد میں دفن کیا اور پھر یہ آیت پڑھی : کیا ہم نے زمین کو زندہ اور مردہ کے لئے کفایت کرنے والی نہیں بنایا۔
حدیث نمبر: 7697
٧٦٩٧ - حدثنا وكيع قال: نا ابن أبي عروبة عن قتادة عن ابن المسيب، قال: ادفنها في المسجد (قد يدفن) (١) ما هو شر منها النخامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جوں کو مسجد میں د فن کردو کیونکہ اس سے زیادہ بری چیز تھوک کو بھی تو مسجد میں دفن کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 7698
٧٦٩٨ - (حدثنا وكيع قال) (١): حدثنا سفيان عن الحسن (بن) (٢) علي، قال: ⦗١٠٨⦘ رأيت ابن (معقل) (٣) (يتفلى) (٤) في المسجد (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن معقل کو مسجد میں جوئیں دفناتے دیکھا ہے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میری دادی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی ام ولد تھیں اور وہ ان سے دور رہتے تھے۔
حدیث نمبر: 7699
٧٦٩٩ - وكانت جدتي أم ولد للحسن بن علي، فكان يعزل عنها.
حدیث نمبر: 7700
٧٧٠٠ - حدثنا أبو معاوية عن ليث عن الحسن بن مسلم عن عبيد بن عمير، قال: أخذت عن ابن عمر دابة وهو يصلي (في المسجد) (١) فألقيتها في ناحية المسجد فلم يعب ذلك علي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز پڑھ رہے تھے اور ان پر کوئی کیڑا وغیرہ تھا۔ میں نے اسے پکڑ کر مسجد کے ایک کونے میں ڈال دیا تو انہوں نے میرے اس عمل پر میری کوئی برائی نہیں کی۔
حدیث نمبر: 7701
٧٧٠١ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم، قال: إذا أخذت القملة وأنت في المسجد فادفنها في (الحصباء) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب تم مسجد میں جوں پکڑو تو اسے مسجد میں ہی دفن کردو۔
حدیث نمبر: 7702
٧٧٠٢ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن يوسف بن ماهك، قال: رأيت ابن عمير أخذ (من ثوب ابن عمر) (١) قملة فدفنها في المسجد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یوسف بن ماہک کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ابن عمیر نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے کپڑوں سے ایک جوں کو پکڑ کر مسجد میں دفن کردیا۔
حدیث نمبر: 7703
٧٧٠٣ - حدثنا قطن بن عبد اللَّه عن أبي غالب قال: رأيت أبا أمامة يأخذ القمل ويلقيه في المسجد فقلت: يا أبا أمامة تأخذ (القمل) (١) وتلقيه في المسجد قال: ﴿أَلَمْ ⦗١٠٩⦘ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا (٢٥) (أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا) (٢)﴾ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو غالب کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابو امامہ جوئیں پکڑ کر انہیں مسجد میں ڈال رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا اے ابو امامہ ! آپ جوئیں مسجد میں کیوں ڈال رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : کیا ہم نے زمین کو زندہ و مردہ کے لئے کفایت کرنے والا نہیں بنایا۔