٧٦٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عبد اللَّه) (١) بن نمير عن الأوزاعي عن (حسان) (٢) ابن عطية قال: كان معاذ بن جبل يأخذ البرغوث في الصلاة فيفركه بيده ⦗١٠٤⦘ حتى يقتله ثم يبزق عليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ نماز میں بعض اوقات اگر کوئی پسّو پکڑتے تو اسے اپنے ہاتھ سے مسل کر مار ڈالتے اور پھر اس پر تھوک ڈال دیتے۔
٧٦٨٠ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن أبي بكر بن أبي مريم عن عبد الرحمن بن الأسود، قال: كان عمر بن الخطاب يقتل القملة في الصلاة حتى يظهر دمها على يده (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نماز میں جوں کو ماردیتے تھے یہاں تک کہ اس کا خون ان کے ہاتھ پر لگ جاتا تھا۔
٧٦٨١ - حدثنا عبدة عن عبد الرحمن بن زياد بن (أنعم) (١) عن (مسلم) (٢) بن يسار عن سعيد بن المسيب في الرجل يأخذ القملة في صلاته قال: (يحدرها) (٣) ويطرحها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب سے دورانِ نماز جوں کے نظر آنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اسے جھاڑ کر دور کردے۔
٧٦٨٢ - [حدثنا وكيع قال: نا سفيان عن منصور عن إبراهيم في الرجل يجد القملة في الصلاة، قال: يدفنها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے دورانِ نماز جوں کے نظر آنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے دفن کردے۔
٧٦٨٣ - حدثنا وكيع قال: نا سفيان عن حماد عن إبراهيم، قال: إن قتلها في الصلاة فلا شيء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نماز میں جوں کو مارنا کوئی چیز نہیں۔
٧٦٨٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا ثور الشامي عن راشد بن سعد عن مالك بن (يخامر قال ثور مرة) (١): راشد بن سعد أو غيره، قال: رأيت معاذ بن جبل يقتل القمل والبراغيث في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن یخامر فرماتے ہیں کہ میں نے معاذ بن جبل کو نماز میں جوئیں اور پسّو مارتے دیکھا ہے۔
٧٦٨٥ - [حدثنا أبو الأحوص عن أبي حمزة قال: قلت لإبراهيم: (آخذ) (١) القملة وأنا في الصلاة] (٢) قال: ادفنها في الحصى إنما جعلت الأرض كفاتًا أحياء وأمواتًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمزہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ اگر مجھے نماز میں کوئی جوں محسوس ہو تو میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کو کنکروں میں دفن کردو، کیونکہ زمین کو زندہ و مردہ دونوں کے لئے کافی رہنے والی بنایا گیا ہے۔
٧٦٨٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن جويبر عن الضحاك في الرجل يقتل القملة في الصلاة، قال: لا بأس (به) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک سے دورانِ نماز جوں کو مارنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
٧٦٨٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسرائيل [عن (ثوير عن) (١) مجاهد في الرجل يجد القملة في الصلاة، (قال: لا بأس أن يحولها) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے دورانِ نماز جوں کے نظر آنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے دور کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٧٦٨٨ - حدثنا (وكيع قال: ثنا) (١) إسرائيل] (٢) عن جابر عن عامر في الرجل يجد القملة في الصلاة، قال: يدعها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے دورانِ نماز جوں کے نظر آنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے دور کردے۔
٧٦٨٩ - حدثنا حماد بن خالد عن معاوية بن صالح عن (صدقة) (١) أبي توبة عن أنس أنه كان يقتل القمل في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس نماز میں جوں کو مار ڈالتے تھے۔