٧٤٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب عن شعبة مولى ابن عباس قال: صليت إلى جنب ابن عباس ففقعت أصابعي فلما قضيت الصلاة قال: لا أم لك (تفقع) (١) أصابعك وأنت في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ مولی ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی، نماز میں میں نے اپنی انگلیوں کو چٹخایا، جب میں نے نماز مکمل کرلی تو انہوں نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ تم نماز میں اپنی انگلیوں کو چٹخاتے ہو۔
٧٤٧٥ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يكره أن (ينقض) (١) الرجل أصابعه يعني وهو في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نماز میں انگلیاں چٹخانے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٧٤٧٦ - [حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء أنه كره أن ينقض أصابعه وهو في الصلاة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء نماز میں انگلیاں چٹخانے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٧٤٧٧ - حدثنا جرير عن ليث عن سعيد بن جبير قال: خمس (تنقض) (١) الصلاة التمطؤ والالتفات وتقليب الحصا والوسوسة وتفقيع الأصابع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں نماز کو ناقص بنادیتی ہیں : انگڑائی لینا، ادھر ادھر دیکھنا، کنکریوں کو الٹ پلٹ کرنا، وساوس کا آنا اور انگلیوں کو چٹخانا۔
٧٤٧٨ - حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت مجاہد نماز میں انگلیاں چٹخانے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔