کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی آدمی فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہو اور پھر اسے معلوم ہو کہ ابھی فجر طلوع نہیں ہوئی تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 7390
٧٣٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن ابن سيرين قال: نبئت أن أبا موسى الأشعري (أعاد) (١) صلاة الصبح في يوم ثلاث مرات، صلى ثم قعد (حتى) (٢) ثم تبين له أنه صلى بليل، ثم أعادها، ثم صلى وقعد حتى تبين أنه صلى بليل ثم أعادها الثالثة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ایک دن میں فجر کی نماز تین مرتبہ دہرائی۔ وہ نماز پڑھ کر بیٹھے تو معلوم ہوا کہ انہوں نے طلوع فجر سے پہلے نماز پڑھ لی ہے۔ لہٰذا نماز کا اعادہ کیا۔ پھر نماز پڑھ کر بیٹھے تو معلوم ہوا کہ ابھی بھی فجر طلوع نہیں ہوئی تھی، چناچہ انہوں نے تیسری مرتبہ نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7390
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7390، ترقيم محمد عوامة 7278)
حدیث نمبر: 7391
٧٣٩١ - حدثنا ابن علية عن أيوب (عن) (١) نافع (أن) (٢) ابن عمر أعاد صلاة الصبح (بجمع) (٣) في يوم ثلاث مرات (صلى) (٤) فإذا هو قد صلى بليل ثم أعادها فإذا هو قد صلى بليل ثم أعادها الثالثة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دن میں فجر کی نماز تین مرتبہ دہرائی۔ وہ نماز سے فارغ ہوئے تو معلوم ہوا کہ انہوں نے طلوع فجر سے پہلے نماز پڑھ لی ہے۔ لہٰذا نماز کا اعادہ کیا۔ پھر نماز پڑھی اور فارغ ہوئے تو معلوم ہوا کہ ابھی بھی فجر طلوع نہیں ہوئی تھی، چناچہ انہوں نے تیسری مرتبہ نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7391
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7391، ترقيم محمد عوامة 7279)
حدیث نمبر: 7392
٧٣٩٢ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا منصور عن الحسن قال: شكوا في طلوع الفجر في عهد ابن عباس (قال) (١): فأمر مؤذنه فأقام الصلاة ثم تقدم فصلى بهم ⦗٤٣⦘ (واستفتح) (٢) البقرة حتى ختمها ثم ركع ثم سجد ثم قام فاستفتح آل عمران حتى ختمها ثم ركع ثم (و) (٣) سجد قال: وأضاء لهم الصبح (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے زمانے میں لوگوں کو طلوع فجر کے بارے میں شک ہوا۔ انہوں نے اپنے مؤذن کو حکم دیا اس نے دوبارہ اقامت کہی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ انہوں نے پوری سورة البقرۃ پڑھی، پھر رکوع کیا پھر سجدہ کای پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور پوری سورة آل عمران پڑھی۔ پھر رکوع کیا اور پھر سجدہ کیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو روشنی ہوچکی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7392
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7392، ترقيم محمد عوامة 7280)
حدیث نمبر: 7393
٧٣٩٣ - حدثنا هشيم قال: حدثنا حصين عن إبراهيم قال: كانت (بي) (١) سعلة فخرجت لصلاة الصبح فسمع المؤذن سعلتي فظن (أن) (٢) قد أصبحنا فأقام الصلاة فصلينا ثم نظرنا فإذا الفجر لم يطلع (فأعدنا) (٣) الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے کھانسی لاحق تھی کہ میں فجر کی نماز کے لئے نکلا، مؤذن نے میری کھانسی کی آواز سنی اور خیال کیا کہ صبح ہوچکی ہے۔ اس نے اقامت کہہ دی اور ہم نے فجر کی نماز پڑھ لی۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ابھی تو فجر طلوع نہیں ہوئی، لہٰذا ہم نے طلوع فجر کے بعد دوبارہ نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7393
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7393، ترقيم محمد عوامة 7281)