حدیث نمبر: 6685
٦٦٨٥ - (حدثنا أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن همام قال: صلى حذيفة على دكان وهم أسفل منه قال: فجذبه سلمان حتى أنزله (٢) فلما انصرف ⦗٤٢٧⦘ قال له: أما علمت أن أصحابك كانوا يكرهون أن يصلي الإمام على الشيء وهم أسفل منه؟ (قال) (٣): فقال حذيفة: بلى، قد ذكرت حين (مددتني) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہمام فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک اونچی جگہ پر نماز پڑھانا شروع کی، جبکہ باقی لوگ نیچے کھڑے تھے۔ حضرت سلمان نے انہیں کھینچ کر نیچے اتار دیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت سلمان نے فرمایا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے اصحاب اس بات کو مکروہ خیال کرتے تھے کہ امام کسی چیز پر اوپر کھڑا ہو اور لوگ نیچے ہوں ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ بات بالکل ٹھیک ہے، جب آپ نے مجھے کھینچا تو یہ بات مجھے یاد آگئی۔
حدیث نمبر: 6686
٦٦٨٦ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن إبراهيم قال: صلى حذيفة على دكان بالمدائن أرفع (من) (١) أصحابه فمده أبو مسعود (فقال) (٢) له: أما علمت أن هذا يكره؟ (قال) (٣): ألم تر أنك (لما ذكرتني) (٤) ذكرت (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن میں ایک اونچی جگہ کھڑے ہوکر اپنے مقتدیوں سے بلند نماز پڑھانا چاہی تو حضرت ابو مسعود نے انہیں کھینچا اور فرمایا کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ ایسا کرنا مکروہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب آپ نے مجھے یاد کرایا تو مجھے یاد آگیا !
حدیث نمبر: 6687
٦٦٨٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي قيس عن هزيل عن (عبد اللَّه) (١) أنه كره أن يرتفع الإمام على أصحابه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ امام اپنے مقتدیوں سے بلند کھڑا ہو۔
حدیث نمبر: 6688
٦٦٨٨ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن القاسم قال: كان (شاذروان) (١) القصر يقوم عليه الإمام قال: فكرهه عبد اللَّه وأمر به فكسر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ امام کے لئے ایک اونچی جگہ تھی جہاں کھڑے ہو کر وہ نماز پڑھاتا تھا۔ حضرت عبداللہ نے اسے ناپسند فرمایا کہ اسے توڑ دیا جائے۔
حدیث نمبر: 6689
٦٦٨٩ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يكره أن يكون ⦗٤٢٨⦘ مكان الإمام أرفع من مكان القوم وكان يكره أن (يرفع) (١) الرجل في مصلاه شيئًا يسجد عليه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ امام کی جگہ لوگوں کی جگہ سے بلند ہو۔ وہ اس بات کو بھی ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی نماز کی جگہ کسی چیز کو اونچا رکھ کر اس پر سجدہ کرے۔
حدیث نمبر: 6690
٦٦٩٠ - حدثنا مروان بن معاوية عن إسماعيل (بن) (١) سميع (عن) (٢) بلال العبسي قال: رأى عمار رجلًا يصلي على (رابية) (٣) فأخذ بقفاه فحطه إلى الأرض فقال: صل هاهنا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بلال عبسی کہتے ہیں کہ حضرت عمار نے ایک آدمی کو ایک بلند جگہ نماز پڑھتے دیکھا تو اسے اس کی گردن سے پکڑ کر نیچے اتار دیا اور فرمایا کہ یہاں نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 6691
٦٦٩١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (عثمان) (١) بن أبي هند قال: رأيت عمر بن عبد العزيز يصلي فوق كنيسة بالشام والناس أسفل منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن ابی ہند فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو دیکھا کہ وہ شام میں ایک بلند جگہ کھڑے نماز پڑھا رہے تھے جبکہ لوگ نیچے تھے۔
حدیث نمبر: 6692
٦٦٩٢ - حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن قال: كان لا يرى بأسًا أن (يصلي) (١) الإمام على مكان أرفع من أصحابه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ امام مقتدیوں سے اونچی جگہ کھڑے ہوکر نماز پڑھے۔