کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ان دو سنتوں کو ادا کر لو
٦٥٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: أخبرنا يونس بن عبيد عن ابن سيرين أنه كان يقول في الرجل إذا دخل المسجد والقوم يصلون الغداة، قال: يدخل مع القوم في صلاتهم ولا يصلي الركعتين فإنه ما يفوته من المكتوبة أعظم من الركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص فجر کی جماعت کے دوران مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ جماعت میں شامل ہوجائے اور دو سنتیں نہ پڑھے۔ کیونکہ فرض کی نماز جو اس سے چھوٹ جائے گی سنتوں سے زیادہ مرتبے والی ہے۔
٦٥٨٠ - حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: ذكرته لإبراهيم فقال: المكتوبة تقضى و (صر) (١) في التطوع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ فرض کی قضا کی جاتی ہے جب کہ نوافل کی قضا نہیں کی جاتی۔
٦٥٨١ - حدثنا ابن علية عن سلمة بن علقمة عن ابن سيرين قال: ما يفوته (من) (١) صلاة (الإمام) (٢) أفضل مما يطلب في تينك (٣) الركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ امام کے ساتھ جو نماز چھوٹ جائے گی وہ ان دو رکعتوں سے افضل ہے۔
٦٥٨٢ - حدثنا المحاربي عن عاصم الأحول عن حماد قال: لا (تدخل) (١) المسجد حتى تصلي (٢) ركعتين قبل الفجر (ولو على كناسة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ فجر کی دو سنتیں ادا کئے بغیر مسجد میں داخل نہ ہو، خواہ کوڑے کے ڈھیر پر ادا کرنی پڑیں۔
٦٥٨٣ - حدثنا وكيع عن مسعر (عن) (١) عبيد (بن) (٢) الحسن قال: رأيت ابن (معقل) (٣) صلى الركعتين قبل الفجر في (السدة) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن حسن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن معقل کو گھر کے دروازے پر فجر کی سنتیں ادا کرتے دیکھا ہے۔
٦٥٨٤ - حدثنا (ملازم) (١) بن عمرو عن (بشير) (٢) بن (فروخ) (٣) قال: ⦗٤٠٤⦘ حدثني أيوب (بن) (٤) عتبة عن يحيى بن أبي كثير قال: من أتى المسجد وقد أقيمت الصلاة فليؤخر الركعتين قبل الفجر حتى يصليهما (ضحى) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ جو شخص فجر کی نماز کے دوران مسجد میں آئے تو وہ فجر کی سنتوں کو فجر کی نماز سے پہلے نہ پڑھے بلکہ انہیں چاشت کے وقت ادا کرے۔
٦٥٨٥ - حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي بشر عن سعيد بن جبير قال: إن كان في مكان صلاهما وإن كان في المسجد لم يصلهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اگر مسجد کے علاوہ کوئی جگہ ہو تو اس میں ان سنتوں کو پڑھے ، مسجد میں نہ پڑھے۔
٦٥٨٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء (قال: إن) (١) خشي فوت ركعة دخل معهم ولم (يصلهما) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر آدمی کو فرضوں کی ایک رکعت کے رہ جانے کا اندیشہ ہو تو ان سنتوں کو چھوڑ دے اور جماعت میں شامل ہوجائے۔
٦٥٨٧ - حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه قال: دخل النبي ﷺ المسجد وأخذ بلال في الإقامة فقام ابن (بُحَيْنَة) (١) يصلي ركعتين فضرب النبي ﷺ منكبه وقال: "يا بن القشب تصلي الصبح أربعًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجعفر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ فجر کی نماز کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو حضرت بلال نے اقامت شروع کردی۔ حضرت ابن بحینہ نے اٹھ کر فجر کی دو سنتیں پڑھنا چاہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ اے ابن قشب ! کیا تم فجر کی چار رکعتیں پڑھو گے ؟
٦٥٨٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن حفص عن ابن (بُحَيْنَةَ) (١) قال: أقيمت صلاة الصبح فقام رجل يصلي الركعتين فلما صلى النبي ﷺ لاث الناس حوله فقال رسول اللَّه ﷺ للذي صلى الركعتين: "أتصلي الصبح أربعًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بحینہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ صبح کی نماز کی اقامت ہوگئی تو ایک آدمی دو سنتیں پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھالی تو لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہوگئے۔ آپ نے دو سنتیں پڑھنے والے شخص سے فرمایا کہ کیا تم فجر کی چار رکعتیں پڑھتے ہو ؟
٦٥٨٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أنا) (١) أبو عامر المزني صالح بن رستم عن (ابن) (٢) أبي مليكة (عن ابن عباس) (٣) قال: أقيمت صلاة الصبح فقام رجل يصلي الركعتين فجذب رسول اللَّه ﷺ (ثوبه) (٤) وقال: "أتصلي الصبح أربعًا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب فجر کی اقامت ہوئی ایک آدمی دو سنتیں پڑھنے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کپڑوں سے اسے کھینچا اور فرمایا کہ کیا تم فجر کی چار رکعتیں پڑھتے ہو ؟
٦٥٩٠ - حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي الهيثم قال: قال إبراهيم: (لأن أدرك) (١) ما فاتني من المكتوبة أحب إلي من أن أصليهما.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ فرض نماز جو ان سنتوں کو پڑھنے کی وجہ سے چھوٹ جائے وہ میرے نزدیک ان کے پڑھنے سے زیادہ محبوب ہے۔