کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: فجر کی سنتوں کے بعد قبلے کی طرف ٹیک لگا کر بیٹھنے کی ممانعت
٦٥٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: (أنا) (١) مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون التساند إلى القبلة بعد ركعتي (الفجر) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف فجر کی سنتوں کے بعد قبلے کی طرف ٹیک لگا کر بیٹھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
٦٥٩٢ - حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) المسعودي عن القاسم (بن ⦗٤٠٦⦘ عبد الرحمن) (٢) أن ابن مسعود دخل المسجد فرأى (أناسًا) (٣) قد تساندوا إلى القبلة قال: فقال (لهم) (٤) عبد اللَّه: هكذا عن (وجوه) (٥) الملائكة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن عبدا لرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مسجد تشریف لائے تو کچھ لوگوں کو قبلے کی جہت سے ٹیک لگائے دیکھ کر فرمایا تم فرشتوں کے چہروں کی طرف رخ کرکے کیوں بیٹھے ہو ؟
٦٥٩٣ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن مجاهد قال: (كان) (١) ابن عمر إذا طلع الفجر (صلى) (٢) ركعتين ثم يحتبي و (نحن) (٣) حوله (فإن رأى) (٤) أحدًا منا نعس حركه (٥) قال: وكان ينعس وهو محتبٍ ثم تقام الصلاة فينهض ويصلي (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فجر طلوع ہونے کے بعد فجر کی سنتیں پڑھ کر حبوہ بنا کر بیٹھ جاتے، ہم آپ کے ارد گرد بیٹھ جاتے۔ جب وہ ہم میں سے کسی کو اونگھتا ہوا دیکھتے تو اسے ہلاتے، وہ حبوہ کی حالت میں خود بھی اونگھ رہے ہوتے تھے۔ پھر نماز کھڑی ہوجاتی تو وہ اٹھ کر جماعت میں شامل ہوجاتے۔
٦٥٩٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن القاسم عن أبيه قال: دخل عبد اللَّه المسجد لصلاة الفجر فإذا قوم (قد) (١) أسندوا ظهورهم إلى القبلة فقال: تنحوا عن القبلة لا تحولوا بين الملائكة وبين صلاتها وإن (هاتين) (٢) الركعتين صلاة الملائكة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مسجد تشریف لائے تو کچھ لوگوں کو قبلے کی جہت سے ٹیک لگائے دیکھ کر فرمایا قبلے سے پرے ہو کر بیٹھو، فرشتوں اور ان کی نماز کے درمیان حائل مت ہو، یہ دو رکعتیں فرشتوں کی بھی نماز ہے۔