کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی فجر کی جماعت کے دوران مسجد میں داخل ہو تو وہ سنتیں پڑھے یا جماعت میں شامل ہو جائے
حدیث نمبر: 6567
٦٥٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: (أنا) (١) حصين وابن عون عن الشعبي عن مسروق أنه دخل المسجد والقوم في صلاة الغداة ولم يكن صلى الركعتين، فصلاهما في ناحية، ثم دخل مع القوم في صلاتهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق فجر کی جماعت کے دوران مسجد میں داخل ہوئے، انہوں نے سنتیں نہیں پڑھی تھیں، پس انہوں نے پہلے ایک کونے میں سنتیں ادا کیں ، پھر جماعت میں شامل ہوئے۔
حدیث نمبر: 6568
٦٥٦٨ - [حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن قال: كان يقول: يصليهما في ⦗٤٠٠⦘ ناحية، ثم يدخل مع القوم في صلاتهم] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمایا کرتے تھے کہ آدمی پہلے فجر کی سنتیں ادا کرے پھر جماعت میں شامل ہو۔
حدیث نمبر: 6569
٦٥٦٩ - حدثنا عباد بن (العوام) (١) عن حصين عن القاسم بن أبي أيوب عن سعيد بن جبير أنه جاء إلى المسجد والإمام في صلاة الفجر فصلى الركعتين (٢) قبل أن يلج المسجد عند باب المسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن ابی ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر مسجد آئے تو امام فجر کی نما زپڑھا رہا تھا، انہوں نے مسجد میں داخل ہونے سے پہلے مسجد کے دروازے پر فجر کی سنتیں ادا کیں۔
حدیث نمبر: 6570
٦٥٧٠ - حدثنا أبو أسامة عن عثمان بن غياث قال: حدثني أبو عثمان قال: (قد) (١) رأيت الرجل يجيء وعمر بن الخطاب في صلاة الفجر فيصلي الركعتين في جانب المسجد ثم يدخل مع القوم في صلاتهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نماز پڑھا رہے تھے، ایک آدمی آیا، اس نے مسجد کے کونے میں فجر کی سنتیں ادا کیں، پھر جماعت میں شامل ہوا۔
حدیث نمبر: 6571
٦٥٧١ - حدثنا ابن إدريس عن مطرف عن أبي إسحاق عن حارثة (١) بن مضرب (٢) أن ابن مسعود (٣) وأبا موسى خرجا من عند سعيد بن العاص فأقيمت الصلاة فركع (ابن مسعود) (٤) ركعتين ثم دخل مع القوم في الصلاة وأما أبو موسى فدخل (في) (٥) الصف (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابو موسیٰ سعید بن عاص کے پاس سے اٹھے، اتنے میں نماز کھڑی ہوگئی۔ حضرت ابن مسعود نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر جماعت میں شامل ہوگئے۔ حضرت ابو موسیٰ پہلے ہی صف میں داخل ہوگئے۔
حدیث نمبر: 6572
٦٥٧٢ - حدثنا معتمر عن داود بن إبراهيم قال: قلت لطاوس: أركع الركعتين والقيم يقيم؟ قال: هل تستطيع ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داود بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاوس سے کہا کہ میں اقامت کے دوران دو رکعتیں پڑھ سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو ؟
حدیث نمبر: 6573
٦٥٧٣ - حدثنا معتمر عن الحكم بن أبان عن عكرمة قال: اقرأ ولا تقرأ، وإن قرأت (فخفف) (١) (صلاتهما) (٢) ولو بالطريق يعني ركعتي الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ فجر کی سنتوں میں قراءت کرو یا نہ کرو، اگر قراءت کرو تو مختصر کرو لیکن ان دو رکعتوں کو ضرور ادا کرو، خواہ انہیں راستے میں ہی کیوں نہ پڑھو۔
حدیث نمبر: 6574
٦٥٧٤ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: إذا دخلت المسجد والناس في صلاة الصبح ولم تركع ركعتي الفجر فاركعهما (وإن) (٢) ظننت أن الركعة الأولى تفوتك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر تم دورانِ جماعت مسجد میں داخل ہو اور تم نے فجر کی سنتیں نہ پڑھی ہوں تو پہلے یہ سنتیں پڑھ لو، خواہ تمہیں پہلی رکعت کے رہ جانے کا اندیشہ ہو۔
حدیث نمبر: 6575
٦٥٧٥ - حدثنا وكيع، عن دلهم بن صالح، عن وبرة قال: رأيت ابن عمر يفعله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی یونہی کرتے دیکھا۔ مجھے کسی نے بتایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دو مرتبہ یوں کیا کہ ایک مرتبہ دوران جماعت وہ آئے تو انہوں نے مسجد کے ایک کونے میں فجر کی سنتیں ادا فرمائیں۔ پھر دوسری مرتبہ آئے تو جماعت میں شریک ہوگئے حالانکہ انہوں نے فجر کی سنتیں نہ پڑھی تھیں۔
حدیث نمبر: 6576
٦٥٧٦ - (و) (١) حدثني (من رآه) (٢) فعله مرتين، جاء مرة (وهم) (٣) في الصلاة (فصلاهما) (٤) في جانب المسجد، ثم دخل مرة أخرى فصلى معهم ولم يصلهما (٥).
حدیث نمبر: 6577
٦٥٧٧ - حدثنا عباد بن (العوام) (١) عن سعيد (عن) (٢) أبي معشر عن إبراهيم أنه كره إذا جاء (والإمام) (٣) في صلاة الفجر أن يصليهما في المسجد وقال: يصليهما (على) (٤) باب المسجد أو في ناحيته (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے اس با ت کو مکروہ قرار دیا ہے کہ دوران جماعت مسجد میں فجر کی سنتیں ادا کی جائیں، وہ فرماتے ہیں کہ ان سنتوں کو جماعت کے دوران مسجد کے کونے یا دروازے پر ادا کرے۔
حدیث نمبر: 6578
٦٥٧٨ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (١) الوليد بن أبي مالك عن (أبي) (٢) عبيد اللَّه عن أبي الدرداء قال: إني لأجيء إلى القوم وهم صفوف في صلاة الفجر فأصلي (الركعتين) (٣) ثم أنضم إليهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ میں بعض اوقات فجر کی نماز میں دورانِ جماعت مسجد میں آتا ہوں، میں دو سنتیں پڑھ کر پھر جماعت کے ساتھ شریک ہوتا ہوں۔