کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر عورت بالوں کو نہ ڈھانپے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
٦٣٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن خصيف عن مجاهد قال: أيما امرأة صلت ولم تغط شعرها لم تقبل لها صلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر کسی عورت نے نماز پڑھتے ہوئے بال نہ ڈھانپے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔
٦٣٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) عيسى بن يونس عن عمرو عن الحسن ⦗٣٤٩⦘ رفعه قال: إذا (حاضت) (٢) الجارية لم تقبل لها صلاة إلا بخمار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب لڑکی بالغ ہوجائے تو بغیر دوپٹے کے اس کی نماز نہیں ہوتی۔
٦٣٥٨ - حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه أنه أرسل امرأة إلى عائشة فرأت جارية (لها جمة) (١) فقالت: لو استَتَرت هذه كان (أخير) (٢) (٣) (فقالت) (٤): إنها لم تحض ولا (بدا) (٥) بعد الحيض (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قابوس کے والد فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک لڑکی دیکھی جس کے بال نظر آ رہے تھے۔ اس عورت نے اس لڑکی کے بارے میں کہا کہ یہ اگر بالوں کو چھپا لیتی تو اچھا ہوتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ یہ ابھی تک بالغ نہیں ہوئی اور ابھی تک اس کا حیض ظاہر نہیں ہوا۔
٦٣٥٩ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد (أن) (١) عائشة قالت: دخل عليّ رسول اللَّه ﷺ وعندي فتاة فألقى إليّ حقوه فقال: "شقيه بين هذه الفتاة وبين التي عند أم سلمة (فإنِّي) (٢) لا أراهما إلا قد حاضتا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میرے پاس ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ آپ نے ایک کپڑا مجھے دیا کہ اسے پھاڑ کر اس لڑکی کو اور ام سلمہ کے پاس موجود لڑکی کو دے دوں، میرے خیال میں یہ دونوں بالغ ہوچکی ہیں۔
٦٣٦٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عبد الكريم عن عمرو بن سعيد ⦗٣٥٠⦘ عن عائشة أن النبي ﷺ دخل عليها فاختبأت (١) مولاة لهم فقال النبي ﷺ: "حاضت؟ " فقالوا: نعم، فشق لها من عمامته فقال: "اختمري بهذا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک لڑکی بھاگ کر چھپ گئی، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استفسار فرمایا کہ کیا یہ بالغ ہوگئی ہے۔ آپ کو بتایا گیا جی ہاں یہ بالغ ہوگئی ہے، آپ نے اپنے عمامے سے کپڑا پھاڑ کر اسے دیا کہ اس سے پردہ کرلو۔
٦٣٦١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا شريك عن عثمان الثقفي عن ماهان عن أم سلمة قالت: إذا حاضت الجارية وجب عليها ما (وجب) (١) على أمها من التستر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب لڑکی بالغ ہوجائے تو اس پر اتنا ہی پردہ ضروری ہے جتنا کہ اس کی ماں پر ضروری ہے۔
٦٣٦٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (مرزوق) (١) بن عبد (اللَّه) (٢) مولى بني زهرة (٣) قال: سألت سعيد بن المسيب متى تكتب على الجارية الصلاة؟ فقال: إذا حاضت.
مولانا محمد اویس سرور
مرزوق بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے سوال کیا کہ لڑکی پر نماز کب فرض ہوتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب اسے حیض آجائے۔
٦٣٦٣ - [حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مغيرة على إبراهيم قال: إذا حاضت الجارية وجب عليها ما وجب على أمها من التستر] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب لڑکی کو حیض آجائے تو اس پر پردہ اتنا ہی واجب ہے جتنا کہ اس کی ماں پر۔
٦٣٦٤ - حدثنا وكيع (قال: حدثنا ربيع) (١) عن الحسن قال: إذا حاضت (الجارية) (٢) لم تقبل لها صلاة إلا بخمار.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب لڑکی بالغ ہوجائے تو بغیر دوپٹے کے اس کی نماز نہیں ہوگی۔
٦٣٦٥ - [حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) سفيان عن خصيف عن مجاهد قال: إذا حاضت الجارية لم تقبل لها صلاة إلا بخمار] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب لڑکی بالغ ہوجائے تو بغیر دوپٹے کے اس کی نماز نہیں ہوگی۔
٦٣٦٦ - حدثنا ابن إدريس عن الشيباني عن ماهان أبي سالم قال: قالت عائشة: إذا احتلمت الجارية وجب عليها ما وجب على أمها، يعني من التستر (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب لڑکی بالغ ہوجائے تو اس پر پردہ اتنا ہی واجب ہے جتنا کہ اس کی ماں پر۔
٦٣٦٧ - حدثنا يحيى بن آدم عن حماد بن سلمة عن قتادة عن ابن سيرين عن صفية عن عائشة أن النبي ﷺ قال: "لا (يَقْبَلْ) (١) (اللَّه) (٢) صلاة حائض إلا بخمار" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بالغ لڑکی کی نماز بغیر دوپٹے کے قبول نہیں ہوتی۔
٦٣٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر عن هشام عن الحسن قال: إذا بلغت المرأة الحيض (و) (١) لم تغط أذنها ورأسها، لم تقبل لها صلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر لڑکی بالغ ہونے کے بعد اپنے کانوں اور سر کو نہ ڈھکے تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔