کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو آدمی ایام تشریق میں اکیلا نماز پڑھے وہ تکبیرات کہے گا یا نہیں؟
٥٩٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن عمرو عن الحسن قال: إذا صلى وحده أو في جماعة أو تطوع كبّر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جو شخص اکیلا نماز پڑھے، یا جماعت سے پڑھے یا نفل نماز پڑھے وہ تکبیرات کہے۔
٥٩٥٨ - حدثنا حفص عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم قال: لا يكبر إلا أن يصلي في جماعة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صرف جماعت کی نماز کے بعد تکبیرات کہے گا۔
٥٩٥٩ - حدثنا ابن مهدي عن همام قال: رأيت قتادة (١) صلى وحده أيام التشريق فكبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہمام فرماتے ہیں کہ جو شخص ایام تشریق میں اکیلا نماز پڑھے وہ بھی تکبیرات کہے۔
٥٩٦٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن الشعبي قال: كبّر في التطوع وإن صليت وحدك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نفلی نماز میں بھی تکبیر کہو خواہ اکیلے نماز پڑھ رہے ہو۔
٥٩٦١ - حدثنا حكام الرازي عن عنبسة عن ليث عن مجاهد قال: التكبير أيام التشريق في كل نافلة وفريضة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایام تشریق میں ہر فرض اور نفل کے بعد تکبیرات کہے گا۔
٥٩٦٢ - حدثنا علي بن مسهر عن ابن أبي ليلى عن عبد الكريم عن مجاهد قال: كانوا يكبرون في دبر الركعتين يوم النحر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ یوم نحر میں اسلاف ہر دو رکعات کے بعد تکبیرات کہا کرتے تھے۔