٥٧٢٢ - حدثنا أبو بكر قال نا وكيع عن جعفر بن برقان قال: كتب إلينا عمر بن عبد العزيز: من أستطاع (منكم) (١) أن يأتي العيد ماشيا فليفعل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ہمیں خط لکھا کہ اگر کوئی شخص چل کر عید گاہ میں آنے کی طاقت رکھتا ہو تو وہ چل کر آئے۔
٥٧٢٣ - [حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: من السنّة أن يأتي العيد ماشيا] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ تم چل کر عید گاہ کی طرف آؤ۔
٥٧٢٤ - حدثنا عبد الرحيم عن مسعر عن عاصم عن زر قال: خرج عمر بن الخطاب في يوم فطر أو في يوم أضحى خرج في ثوب (١) قطن متلببا به يمشي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب عید الفطر یا عید الاضحی کے دن ایک روئی کی چادر اوڑھے چلتے ہوئے تشریف لائے۔
٥٧٢٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن المهاجر عن إبراهيم أنه كره الركوب إلى العيدين والجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم عیدین اور جمعہ کے لئے سوار ہو کر آنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
٥٧٢٦ - حدثنا وكيع عن محمد بن أبي حفصة قال: رأيت الحسن يأتي العيد راكبا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابی حفصہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن کو دیکھا کہ وہ عید کی نماز کے لئے سوار ہو کر آتے تھے۔