کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر امام جمعہ کے دن خطبہ نہ دے تو وہ کتنی رکعت نماز پڑھے؟
٥٣٧٥ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن محمد أن أميرا بالبحرين اشتكى فأمر رجلا فصلى بالناس فلم يخطب فصلى أربعا قال محمد: فأصاب السنة (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ بحرین کے امیر ایک مرتبہ بیمار ہوگئے انہوں نے ایک آدمی کو حکم دیا اور اس نے لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی، اس نے خطبہ نہ دیا اور چار رکعت نماز پڑھائی۔ یہ بات محمد کو معلوم ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ اس نے سنت پر عمل کیا۔
٥٣٧٦ - حدثنا هشيم عن هشام عن ابن سيرين مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے بھی یونہی منقول ہے۔
٥٣٧٧ - حدثنا علي بن مسهر عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم قال: إذا لم يخطب الإمام صلى أربعا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر امام جمعہ کے دن خطبہ نہ دے تو چار رکعت نماز پڑھائے۔
٥٣٧٨ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن قال: الإمام إذا لم يخطب صلى أربعا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر امام جمعہ کے دن خطبہ نہ دے تو چار رکعت نماز پڑھائے۔
٥٣٧٩ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: أخبرنا إبراهيم بن نافع قال: سمعت ابن طاوس يذكر ذلك عن أبيه قال: من خطب فليصل ركعتين ومن لم يخطب فليصل أربعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اگر امام جمعہ کے دن خطبہ دے تو دو رکعت پڑھائے اور اگر خطبہ نہ دے تو چار رکعت نماز پڑھائے۔
٥٣٨٠ - حدثنا عبد الأعلى عن معمو عن الزهري قال: كان يصلى أربعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری خطبہ نہ دینے کی صورت میں چار رکعات پڑھا یا کرتے تھے۔
٥٣٨١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الزبير بن عدي عن الضحاك قال: يصلي أربعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک خطبہ نہ دینے کی صورت میں چار رکعات پڑھا یا کرتے تھے۔
٥٣٨٢ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول أنه انطلق حاجًّا فقدم تبوك ⦗١٢٧⦘ في (يوم الجمعة) (١) فصلى إمامهم ركعتين ولم يخطب فقال مكحول: قاتل اللَّه هذا الذي نقص صلاة القوم ولم يخطب وإنما قصرت صلاة الجمعة من أجل الخطبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت برد کہتے ہیں کہ حضرت مکحول حج کے ارادے سے نکلے، جب مقام تبوک پہنچے تو جمعہ کا دن آگیا۔ ان کے امام نے دو رکعت نماز پڑھی اور خطبہ نہ دیا۔ حضرت مکحول نے فرمایا کہ اللہ اسے مارے اس نے لوگوں کی نماز بھی کم کردی اور خطبہ بھی نہیں دیا۔ جمعہ کی نماز تو خطبہ کی وجہ سے کم کی گئی ہے۔