کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو مختصر کر دیا کرتے تھے
٤٧٢٥ - حدثنا أبو بكر قال (حدثنا) (١) مروان بن معاوية عن منصور بن حيان قال: أخبرني سليمان بن (بشر) (٢) الخزاعي عن خاله مالك بن عبد اللَّه قال: غزوت مع رسول اللَّه ﷺ فلم أصل خلف إمام كان أخف صلاة في المكتوبة منه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شرکت کی۔ میں نے کسی فرض نماز کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ مختصر پڑھانے والا امام نہیں دیکھا۔
٤٧٢٦ - حدثنا ابن علية عن (عبد العزيز) (١) بن صهيب عن أنس قال: كان رسول اللَّه ﷺ (يوجز) (٢) الصلاة ويكملها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کو مختصر اور مکمل پڑھتے تھے۔
٤٧٢٧ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن جابر بن سمرة قال: كانت صلاة رسول اللَّه ﷺ قصدا وخطبته قصدا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اور آپ کا خطبہ درمیانہ ہوا کرتے تھے۔
٤٧٢٨ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "تَجَوَّزُوا الصَّلَاةَ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالكَبِيرَ وذَا الحَاجَةِ" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز کو مختصر رکھو، کیونکہ لوگوں میں کمزور، بوڑھے اور کسی کام کی جلدی میں مبتلا آدمی بھی ہوتے ہیں۔
٤٧٢٩ - حدثنا (وكيع) (١) عن إسماعيل (عن) (٢) قيس عن أبي مسعود قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إني لأتأخر عن صلاة الغداة مما يطيل فلان فيها قال: فقام رسول اللَّه ﷺ فما رأيته في موعظة أشد منه غضبا يومئذ فقال: "أَيها النَّاسُ إِنَّ (فِيكُمْ) (٣) (مُنَفِّرِين) (٤) فَأَيُّكُمْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُجَوِّزْ فَإِنَّ فِيهُمْ (الضَّعِيَف) (٥) وَالْكَبيرَ وَذا الْحَاجَةِ" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسعود فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں فجر کی نماز سے اس لئے رہ جاتا ہوں کہ فلاں شخص بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے ! اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وعظ کے لئے کھڑے ہوئے اور میں نے آپ کو کسی وعظ کے دوران اتنے غصے میں نہیں دیکھا جتنا اس دن دیکھا۔ آپ نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” اے لوگو ! تم میں سے کچھ دین سے لوگوں کو متنفر کرنے والے ہیں، تم میں سے جو کوئی نماز پڑھائے تو مختصر نماز پڑھائے، کیونکہ لوگوں میں کمزور، بوڑھے اور کسی کام کی جلدی میں مبتلا آدمی بھی ہوتے ہیں “
٤٧٣٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن محارب عن جابر بن (عبد اللَّه) (١) أن معاذا صلى بأصحابه فقرأ بالبقرة فقال له النبي ﷺ: "أَفَتَّانًا أَفَتَّانًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی اور اس میں سورة البقرہ کی تلاوت کی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنا چاہتے ہو، کیا فتنہ میں ڈالنا چاہتے ہو ؟ !
٤٧٣١ - حدثنا وكيع عن عمرو بن عثمان بن موهب عن موسى بن طلحة عن عثمان بن أبي (العاص) (١) أن النبي ﷺ قال له: "أُمَّ قَوْمَكَ، وَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهُمْ الضعِيَفَ وَالكَبيرَ وَذا الْحَاجَةِ فَإِذا صَلَّيْتَ لِنَفْسِكَ (فَصَلِّ) (٢) كَيْفَ شِئْتَ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن ابی العاص فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنی قوم کی امامت کرو، اور جو کوئی کسی قوم کی امامت کرے اسے چاہئے کہ مختصر نماز پڑھائے، کیونکہ لوگوں میں کمزور، بوڑھے اور کسی کام کی جلدی میں مبتلا آدمی بھی ہوتے ہیں۔ البتہ جب تم اکیلے نماز پڑھو تو جتنی مرضی چاہو لمبی کرلو۔
٤٧٣٢ - [حدثنا وكيع عن هشام الدستوائي عن قتادة عن أنس قال: كان النبي ﷺ أخف الناس صلاة في تمام] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مختصر اور مکمل نماز پڑھنے والے تھے۔
٤٧٣٣ - حدثنا وكيع عن هشام الدستوائي عن قتادة عن عباس (الجشمي) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إِنَّ مِنَ الأَئِمَّةِ (طَرَّادِينَ) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباس جشمی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بعض امام لوگوں کو جماعت سے بھگانے والے ہیں۔
٤٧٣٤ - حدثنا الثقفي عن عبد اللَّه بن عثمان بن (خثيم) (١) عن نافع بن ⦗٥٢٧⦘ (سرجس) (٢) أبي سعيد أنه سمع أبا واقد الليثي صاحب النبي ﷺ (وذكرت) (٣) الصلاة عنده فقال: (كان) (٤) رسول اللَّه ﷺ أخف الناس على الناس وأدومه على نفسه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو واقد لیثی کے پاس نماز کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو سب سے زیادہ مختصر نماز پڑھانے والے اور اپنے نفس پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔
٤٧٣٥ - حدثنا زيد بن حباب عن يحيى بن الوليد بن (المسير) (١) الطائي قال: أخبرني محل الطائي (٢) عن عدي بن حاتم قال: إن من أمنا فليتم الركوع والسجود فإن فينا الضعيف والكبير والمريض والعابر سبيل وذا الحاجة، هكذا (كنا) (٣) نصلي مع رسول اللَّه ﷺ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ جو ہماری امامت کرائے وہ رکوع اور سجود کو پوری طرح کرے، کیونکہ ہم میں کمزور، بوڑھے، کسی کام کی جلدی میں مبتلا، مریض اور مسافر لوگ ہوتے ہیں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بھی ایسی ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔
٤٧٣٦ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن ثابت قال: صليت مع أنس العتمة فَتَجَوَّزَ (١) ما شاء اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی اور انہوں نے اسے اتنا مختصر کیا جتنا اللہ نے چاہا۔
٤٧٣٧ - حدثنا أبو بكر قال (حدثنا) (١) عباد بن العوام عن موسى (الجهني) (٢) عن مصعب بن سعد أنه (حدث) (٣) قال: كان أبي إذا صلى في المسجد خفف الركوع والسجود وجوز وإذا صلى في بيته أطال الركوع والسجود والصلاة فقلت له فقال: إنا أئمة يقتدى بنا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میرے والد جب مسجد میں نماز پڑھتے تو رکوع اور سجدہ کو مختصر رکھتے اور ہلکی نماز پڑھتے اور جب گھر میں نماز پڑھتے تو نماز اور رکوع و سجود کو لمبا کرتے۔ میں نے اس بارے میں ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم وہ امام ہیں جن کی اقتداء کی جاتی ہے۔
٤٧٣٨ - حدثنا عبدة عن ابن أبي عروبة عن أبي رجاء قال: رأيت الزبير بن العوام صلى صلاة خفيفة فقلت: أنتم أصحاب رسول اللَّه ﷺ أخف الناس صلاة (فقال) (١): إنا نبادر هذا الوسواس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رجاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زبیر بن عوام کو دیکھا کہ انہوں نے انتہائی مختصر نماز پڑھائی۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ہو کر اتنی مختصر نماز پڑھتے ہیں ؟ حضرت زبیر نے فرمایا کہ ہم ان وسوسوں کو دور کرنا چاہتے ہیں۔
٤٧٣٩ - حدثنا وكيع عن سفيان (و) (١) عن قيس عن (نسير) (٢) عن (خليد) (٣) الثوري عن عمار قال: احذفوا هذه الصلاة قبل وسوسة الشيطان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار فرماتے ہیں کہ اس نماز (فرض) کو شیطانی وساوس کے آنے سے پہلے پورا کرلو۔
٤٧٤٠ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن زيد بن وهب عن حذيفة أنه علم رجلا فقال: إن الرجل ليخفف الصلاة ويتم الركوع والسجود (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آدمی نماز کو مختصر رکھے گا اور رکوع و سجود کو پوری طرح ادا کرے گا۔
٤٧٤١ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل عن أبيه قال: كان يصلي خلف أبي هريرة قال: وكانت (صلاته) (١) نحوا من صلاة قيس يتم الركوع والسجود ويجوّز قال: فقيل لأبي هريرة: هكذا كانت صلاة رسول اللَّه ﷺ؟ قال: نعم وأَجْوَزُ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل فرماتے ہیں کہ ان کے والد (ابو خالد) حضرت ابوہریرہ کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کی نماز حضرت قیس کی نماز کی طرح تھی، وہ رکوع و سجود تو پوری طرح کرتے تھے لیکن نماز کو مختصر رکھتے تھے۔ اس بارے میں حضرت ابوہریرہ سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ایسی تھی ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایسی تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ مختصر تھی۔
٤٧٤٢ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن أبيه قال: رأيت أبا هريرة صلى صلاة تجوّز فيها فقلت له: هكذا كانت صلاة النبي ﷺ قال: نعم وأجوز (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو خالد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کو انتہائی مختصر نماز پڑھتے دیکھا، میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ایسی ہوا کرتی تھی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی تھی۔
٤٧٤٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون قال: لما طعن عمر (وماج) (١) الناس تقدم عبد الرحمن بن عوف فقرأ بأقصر سورتين في القرآن: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾، و ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو نیزہ مار دیا گیا اور لوگ بکھر گئے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی، انہوں نے اس نماز میں قرآن مجید کی دو چھوٹی سورتوں سورة الکوثر اور سورة النصر کی تلاوت فرمائی۔
٤٧٤٤ - حدثنا عبدة عن الأعمش عن إبراهيم كان يخفف الصلاة ويتم الركوع والسجود.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نماز کو مختصر کرتے تھے لیکن رکوع و سجود پوری طرح کیا کرتے تھے۔
٤٧٤٥ - حدثنا وكيع عن عمران عن أبي مجلز قال: كانوا يتمون ويوجزون ويبادرون الوسوسة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ اسلاف نماز کو پوری طرح پڑھتے تھے لیکن مختصر رکھتے تھے اور اسے شیطانی وساوس سے بچاتے تھے۔
٤٧٤٦ - حدثنا هشيم عن حميد عن أنس قال: كان رسول اللَّه ﷺ من أخف الناس صلاة (وأوجزه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تمام لوگوں سے زیادہ مختصر اور خفیف تھی۔
٤٧٤٧ - حدثنا ابن نمير عن مسعر عن مهاجر عن عمرو بن ميمون قال: ما رأيت الصلاة في موضع أخف منها فيما (١) بين هذين الحائطين، يعني مسجد الكوفة الأعظم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں جتنی مختصر نماز ان دونوں دیواروں کے درمیان یعنی کوفہ کی جامع مسجد میں دیکھی ہے اور کہیں نہیں دیکھی۔
٤٧٤٨ - حدثنا وكيع وابن مهدي عن سفيان عن النعمان بن قيس قال: كُنَّ النساء إذا مررن (على) (١) عبيدة (وهو يصلي) (٢) قلن خففوا فإنها صلاة عبيدة، يعني من خفتها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن قیس کہتے ہیں کہ عورتیں جب حضرت عبیدہ کے پاس سے گذرتیں اور وہ نماز پڑھ رہے ہوتے تو ایک دوسری سے کہتیں کہ مختصر نماز پڑھا کرو کیونکہ دیکھو حضرت عبیدہ کی نما ز کتنی مختصر ہے۔