کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے نصف ہے
حدیث نمبر: 4692
٤٦٩٢ - حدثنا هشيم قال أخبرنا حصين عن هلال بن يساف عن أبي حيان الأشجعي وكان من أصحاب عبد اللَّه قال: قال (عبد اللَّه) (١): لا تبادروا أئمتكم بالركوع ولا بالسجود وإذا رفع أحدكم رأسه والإمام ساجد فليسجد، ثم ليمكث قدر ما سبق به الإمام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ رکوع اور سجدے میں اپنے امام سے آگے نہ بڑھو، جب تم میں سے کوئی اپنا سر اٹھائے اور امام سجدے کی حالت میں ہو تو دوبارہ سجدہ میں پڑجائے اور پھر اتنی دیر ٹھہرا رہے جتنی دیر اس نے امام کے ساتھ سجدہ میں شراکت نہیں کی۔
حدیث نمبر: 4693
٤٦٩٣ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن هلال عن أبي حيان قال: قال (عبد اللَّه) (١): فذكر نحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4694
٤٦٩٤ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن يعقوب بن عبد اللَّه (ابن) (١) الأشج عن (بسر) (٢) بن سعيد عن الحارث بن المخلّد (عن أبيه) (٣) قال: قال عمر: من رفع رأسه قبل الإمام فليعد، وليمكث حتى يرى أنه أدرك ما فاته (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جس شخص نے امام سے پہلے سر اٹھایا وہ واپس سجدے میں چلا جائے اور اتنی دیر سجدے میں رہے کہ اسے احساس ہوجائے کہ اس نے سجدے کے فوت شدہ حصے کو پالیا ہے۔
حدیث نمبر: 4695
٤٦٩٥ - حدثنا محمد بن (مروان) (١) المحصري عن سليمان بن كندير قال: صليت إلى جنب ابن عمر فرفعت رأسي قبل الإمام فأخذه فأعاده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن کندیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی، میں نے امام سے پہلے اپنا سر اٹھایا، انہوں نے مجھے پکڑ کر دوبارہ سجدے میں ڈال دیا۔
حدیث نمبر: 4696
٤٦٩٦ - حدثنا هشيم قال أخبرنا يونس عن الحسن أنه كان يقول: إذا رفع رأسه قبل الإمام (والإمام ساجد) (١) فليعد فليسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص امام سے پہلے سر اٹھالے اور امام سجدے کی حالت میں ہو تو وہ واپس سجدے میں چلا جائے۔
حدیث نمبر: 4697
٤٦٩٧ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يقول ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم بھی یونہی فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4698
٤٦٩٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: يعود فيسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ واپس سجدے میں چلا جائے۔
حدیث نمبر: 4699
٤٦٩٩ - حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن ابن جريج عن عطاء قال: إذا رفعت رأسك قبل الإمام فعد إلى أن ترى أن الإمام قد رفع قبلك. باب
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر تم امام سے پہلے سر اٹھا لو تو واپس ہوجاؤ، یہاں تک کہ تم دیکھ لو کہ امام نے تم سے پہلے سر اٹھا لیا ہے۔
حدیث نمبر: 4700
٤٧٠٠ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن مخارق قال: مررت بأبي ذر بالربذة (وأنا) حاج، فدخلت عليه منزله فرأيته (يصلي) (١) (يخفف) (٢) القيام قدر ما يقرأ: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ و ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾، (ويكثر) (٣) الركوع والسجود فلما قضى صلاته قلت: يا أبا ذر رأيتك (تخفف) (٤) القيام وتكثر الركوع والسجود فقال: إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجَدُ للَّهِ سَجْدَةً أَوْ يَرْكَعُ (لَهُ) (٥) رَكْعَةً إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بهَا خَطِيئَتَهُ (وَرَفَعَ) (٦) لَهُ ⦗٥١٨⦘ بِهَا (دَرَجَةً) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مخارق فرماتے ہیں کہ میں مقام ربذہ میں حضرت ابو ذر کے پاس سے گذرا، میں حج کے ارادے سے تھا۔ میں ان کے گھر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اتنا مختصر قیام فرماتے جتنی دیر میں سورة الکوثر اور سورة النصر پڑھی جاسکے۔ وہ رکوع اور سجدے کثرت سے کرتے تھے۔ جب انہوں نے اپنی نماز مکمل کرلی تو میں نے کہا اے ابو ذر ! میں نے آپ کو دیکھا آپ قیام کو مختصر کر رہے ہیں اور زیادہ رکوع و سجود کررہے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے جب بھی کوئی بندہ اللہ کے لیے سجدہ کرتا ہے اور اس کے لئے رکوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک گناہ کو معاف کرتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 4701
٤٧٠١ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن ابن سيرين (قال) (١): ذكروا سجود القرآن عند عائشة فقالت: هو فريضة أديتها أو تطوع تطوعته ما من مسلم يسجد (٢) سجدة إلا (رفع) (٣) اللَّه (له) (٤) بها (درجة) (٥) وحط عنه (خطيئة) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس قرآن مجید کے سجدوں کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم اسے فرض سمجھ کر ادا کرو یا نفل سمجھ کر لیکن اتنا یاد رکھو کہ جب بھی کوئی مسلمان سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک درجہ بلند فرماتے ہیں اور اس کے ایک گناہ کو معاف فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4702
٤٧٠٢ - حدثنا علي بن مسهر عن داود عن أبي عثمان عن مطرف بن عبد اللَّه بن الشخير قال: أتيت الشام فإذا أنا برجل يصلي ويركع ويسجد ولا يفصل فقلت: لو قعدت حتى أرشد هذا الشيخ قال: فجلست فلما قضى الصلاة قلت له: يا عبد اللَّه أعلى شفع انصرفت أم على وتر؟ قال: قد كُفيت ذلك قلت: ومن يكفيك؟ قال: الكرام (الكاتبون) (١) ما سجدت سجدة إلا رفعني اللَّه بها درجة وحط عني بها خطيئة (٢)، قلت: من أنت يا عبد اللَّه قال: أبو ذر، قلت: ثكلت مطرفا أمه يعلم أبا ذر السنة، فلما أتيت منزل كعب قيل لي: قد سأل عنك فلما لقيته ذكرت له ⦗٥١٩⦘ أمر أبي ذر وما قال لي فقال لي مثل قوله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف بن عبدا للہ بن شخیر فرماتے ہیں کہ میں ملک شام حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور بغیر فصل کے رکوع و سجود کررہا تھا۔ میں نے سوچا کہ مجھے بیٹھ کر ان بزرگ کا کھوج لگانا چاہئے کہ یہ کون ہیں ؟ چناچہ میں بیٹھ گیا ۔ جب انہوں نے نماز مکمل کرلی تو میں نے کہا اے اللہ کے بندے ! آپ نے طاق رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا ہے یا جفت ؟ انہوں نے کہا میں اس سے بےنیاز ہوں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو کس نے بےنیاز کیا ہے ؟ انہوں نے کہا اعمال لکھنے والے معزز فرشتوں نے۔ کیونکہ میں نے جب بھی سجدہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا ایک درجہ بلند کیا اور مجھ سے ایک گناہ کو ختم کردیا۔ میں نے کہا کہ اے اللہ کے بندے ! آپ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا میں ابو ذر ہوں۔ میں فوراً بولا مطرف کی ماں اسے کھو دے، وہ حضرت ابو ذر کو سنت سکھاتا ہے ! جب میں حضرت کعب کے مکان پر حاضر ہوا تو مجھ سے کہا گیا کہ وہ تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ جب میں ان سے ملا تو میں نے ان سے حضرت ابو ذر کی بات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ ٹھیک کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4703
٤٧٠٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن سالم (بن) (١) أبي الجعد قال: قيل لثوبان: حدثنا عن رسول اللَّه ﷺ فقال: (يكذبون) (٢) عليّ سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ما من مسلم يسجد للَّه سجدة إلا رفعه اللَّه بها (درجة) (٣) أو حط عنه بها (خطيئة) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ حضرت ثوبان سے کہا گیا کہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں۔ انہوں نے فرمایا کہ لوگ میرے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی بندہ اللہ کے لئے سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک درجے کو بلند کرتے ہیں اور ایک گناہ کو معاف فرماتے ہیں۔