کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کی رخصت
حدیث نمبر: 4662
٤٦٦٢ - حدثنا (وكيع عن سعيد بن زياد) (١) عن زياد (بن) (٢) صبيح الحنفي قال: صليت إلى جنب ابن عمر فوضعت يدي على خاصرتي فلما صلى قال: هذا الصلب في الصلاة كان رسول اللَّه ﷺ ينهى عنه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی اور میں نے اپنے کولہے پر ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ نماز میں کمی کے مترادف ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4662
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سعيد بن زياد صدوق، أخرجه أحمد (٤٨٤٩)، وأبو داود (٩٠٣)، والنسائي ٢/ ١٢٧، والبيهقي ٢/ ٢٨٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4662، ترقيم محمد عوامة 4624)
حدیث نمبر: 4663
٤٦٦٣ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق عن عائشة أنها ىهت أن يضع (١) يده على خاصرته في الصلاة وقالت: (تفعله) (٢) اليهود (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نماز میں کولہے پر ہاتھ پر ہاتھ رکھنے کو مکروہ قرار دیا اور فرمایا کہ یہود اس طرح کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4663
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4663، ترقيم محمد عوامة 4625)
حدیث نمبر: 4664
٤٦٦٤ - حدثنا وكيع قال حدثنا (ثور) (١) الشامي عن خالد بن معدان عن عائشة أنها (رأت) (٢) رجلا واضعا يده على خاصرته، فقالت: هكذا أهل النار في النار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے اپنے ہاتھ کو کولہے پر رکھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ جہنم والے جہنم میں ایسے کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4664
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4664، ترقيم محمد عوامة 4626)
حدیث نمبر: 4665
٤٦٦٥ - حدثنا وكيع قال حدثنا (١) (سفيان عن) (٢) صالح مولى التوءمة عن ابن عباس أنه كرهه في الصلاة وقال: إن الشيطان يحضر ذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نماز میں کولہے پر ہاتھ رکھنے کو مکروہ قرار دیا اور فرمایا کہ اس طرح کرنے سے شیطان حاضر ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4665
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف، تغير صالح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4665، ترقيم محمد عوامة 4627)
حدیث نمبر: 4666
٤٦٦٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن الزبير بن عدي عن إبراهيم أنه كره أن يضع الرجل يده على خاصرته في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے اس بات کو مکروہ قرار دیا کہ آدمی نماز میں کولہے پر ہاتھ رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4666
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4666، ترقيم محمد عوامة 4628)
حدیث نمبر: 4667
٤٦٦٧ - حدثنا وكيع قال (حدثنا) (١) سفيان عن ابن جريج عن إسحاق بن عويمر عن مجاهد قال: وضع اليدين على الحقو استراحة أهل النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کولہے پر ہاتھ رکھنا جہنمیوں کا آرام ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4667
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4667، ترقيم محمد عوامة 4629)
حدیث نمبر: 4668
٤٦٦٨ - حدثنا وكيع قال (حدثنا) (١) عمران بن (حدير) (٢) عن أبي مجلز أنه رأى رجلا واضعا يده على خاصرته في الصلاة فضرب يده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز نے ایک آدمی کو نماز میں کولہے پر ہاتھ رکھے دیکھا تو اس کے ہاتھ پر مارا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4668
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4668، ترقيم محمد عوامة 4630)
حدیث نمبر: 4669
٤٦٦٩ - حدثنا الثقفي عن خالد عن حميد بن هلال أنه إنما كره التخصر في الصلاة: أن أبليس أهبط (متخصرا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ نماز میں کولہے پر ہاتھ رکھنے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے، شیطان جب زمین پر اتارا گیا تو اس نے کولہے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4669
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4669، ترقيم محمد عوامة 4631)
حدیث نمبر: 4670
٤٦٧٠ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد عن أبي هريرة قال: نهى عن الاختصار في الصلاة. - قال محمد: وهو أن يضع (يديه) (١) على (خاصرته) (٢) وهو يصلي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نماز میں کولہے پر ہاتھ رکھنے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4670
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٢٢٠) ومسلم (٥٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4670، ترقيم محمد عوامة 4632)
حدیث نمبر: 4671
٤٦٧١ - حدثنا ابن (علية) (١) عن الجريري عن (حيان) (٢) بن عمير قال: كنت مع قيس بن عباد فرأى رجلا يصلي (متخصرا) (٣) فقال: اذهب إلى (ذاك) (٤) فقل له: (يضع) (٥) (يده) (٦) من مكان يد (الراجز) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبان بن عمیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت قیس بن عباد کے ساتھ تھا، انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے کولہے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اس کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ افسوس کرنے والے کی طرح ہاتھ نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4671
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4671، ترقيم محمد عوامة 4633)
حدیث نمبر: 4672
٤٦٧٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق عن عائشة أنها كرهت الاختصار في الصلاة وقالت: لا تشبهوا باليهود (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نماز میں کولہے پر ہاتھ رکھنے کو مکروہ قرار دیا اور فرمایا کہ یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4672
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4672، ترقيم محمد عوامة 4634)
حدیث نمبر: 4673
٤٦٧٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن هشام عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة عن النبي ﷺ أنه نهى أن يصلي الرجل متخصرًا (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں کولہے پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4673
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه البخاري (١٢٢٠) ومسلم (٥٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4673، ترقيم محمد عوامة 4635)