کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی آدمی قبلے سے رخ ہٹا کر آیت سجدہ کی تلاوت کر رہا ہو
٤٣٨٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن كريب عن أبيه عن ابن عباس في الرجل يقرأ السجدة وهو على غير القبلة أيسجد؟ قال: (نعم) (١)، لا بأس به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس شخص کے بارے میں جو قبلے سے رخ ہٹا کر آیت سجدہ کی تلاوت کرے فرماتے ہیں کہ وہ سجدہ کرے گا اس میں کوئی حرج نہیں۔
٤٣٨٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن عطاء عن أبي عبد الرحمن قال: كان يقرأ السجدة وهو على غير القبلة وهو يمشي فيومئ بوأسه ثم يسلّم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن چلتے ہوئے قبلے کے علاوہ کسی طرف رخ کرکے آیت سجدہ پڑھتے تھے اور پھر سر سے اشارہ کرکے سلام پھیر لیتے تھے۔
٤٣٨٨ - حدثنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين قال: سمعت الحسن وقرأ السجدة التي في (ص) فسجد على حرف اسطوانة ثم قال للقوم: توجَّهوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان بن حسین کہتے ہیں کہ حضرت حسن نے ایک ستون کے پاس کھڑے ہوکر سورة ص کی آیت سجدہ پڑھی پھر لوگوں سے فرمایا کہ قبلے کی طرف رخ کرلو۔
٤٣٨٩ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن أنه كان يقرأ بها وهو جالس فيستقبل القبلة (ويسجد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعبد الرحمن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بیٹھ کر آیت سجدہ پڑھے تو اسے چاہئے کہ قبلہ رخ ہو کر سجدہ کرے۔